30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الامام ظہیرالدین کان یفتی بجواب الروایۃ[1]۔ |
امام ظہیرالدین اس روایت پر فتوٰی دیا کرتے تھے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال فی الفتاوٰی عن استاذنا انہ یفتی علی قول الامام[2]۔ |
انہوں نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ ہمارے استاذ سے مروی ہے کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کے اس قول پر فتوٰی دیا کرتے تھے۔(ت) |
محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:الوجہ لظاہر الروایۃ[3](فتوٰی کی وجہ ظاہر الروایۃ ہے۔ت)شرح تنویر الابصار میں ہے:
|
جواب ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقًا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیر الدین وابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ[4]۔ |
ظاہر الروایۃ میں جواب کہ مطلقًا منع نہیں ہے،اسی پر ایك جماعت کا فتوٰی ہے،جیسا کہ امام ظہیرالدین،ابن شحنہ اور ان کے والد،اسی کو فتح میں ترجیح دی ہے،اور مجتبٰی کے باب القسمۃ میں ہے اور اس پر فتوٰی دیا جائے اور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا فتووں میں اختلاف ہے جبکہ ظاہر روایت پر اعتماد چاہئے۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
ذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن |
علامہ ابن شحنہ نے فرمایامجھے یاد ہے کہ ہمارے پانچوں ائمہ ابوحنیفہ،ابویوسف،محمد،زفراور حسن بن زیاد رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے منقول ہے کہ اپنی ملکیت |
[1] فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۱۴
[2] فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۱۸
[3] فتح القدیر کتاب القضاء مسائل شتی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴
[4] درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع