30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ گاؤں اس کے والد کا تھا اس نے اپنی زوجہ کو مہر میں دیا پھر زوجہ سے اس پسر نابالغ کے نام ہبہ کرالیا پھر بعد بلوغ اس بناء پر کہ آمدنی جائداد کا تحفظ چاہتے ہیں یہ پنچایت نامہ ہوا،والدہ صاحب مال وزیور ہے محتاج نفقہ نہیں،اس صورت میں لڑکا گاؤں کا مالك مستقل ہوگیا اور یہ پنچایت محض بے معنی تھی جس کی پابندی ہر گز لازم نہیں ہوسکتی کہ شرط حکم صحت دعوٰی ہے اور دعوٰی طلب حق،اور یہاں والدین کا کوئی حق جائداد وتوفیر میں نہ رہا تھا کہ ان کا دعوی صحیح ہوسکتا اور یہ پنچایت پنچایت ٹھہرتی،غایت یہ کہ اس کا قبول کرلینا لڑکے کی طرف سے ایك وعدہ قرار دیا جائے گا اور وعدہ کی وفا پر جبرنہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
|
لایلزمہ الوفاء بالمواعید[1]۔ |
وعدوں کا ایفاء ضروری نہیں ہے۔(ت) |
ہاں ماں کی خدمت دارین کی سعادت ہے جس قدر ہو بہتر ہے یہ امر دیگر ہے اور انسان کی اپنی مرضی پر ہےجب حالت یہ ہے کہ ماں محتاج نفقہ نہیں ورنہ بقدرنفقہ دینا واجب۔عالمگیری میں ہے:
|
یجبر الولد الموسر علی نفقۃ الابوین المعسرین مسلمین کانا او ذمیین قدرا علی الکسب اولم یقدرا [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
والدین تنگ دست ہوں تو امیر بیٹے کو بہر صورت ان کے نفقہ پر مجبور کیاجائے گا،والدین مسلمان ہوں یا ذمی،وہ کسب پر قادر ہوں یا نہ ہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۴۹: ازریاست رامپور بزریا ملا ظریف گھر منشی عبدالرحمان خاں مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان ۱۳/ذیقعدہ ۱۳۱۵ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان زید نے خریدا،وقت خرید کے حد رابع کوچہ تھا،جب زید نے دعوٰی بنام عمرو کیا تو اسی حد رابع میں جو بیعنامہ میں کوچہ نافذہ لکھا تھا بموجب حد مندرج بیعنامہ کوچہ نافذہ لکھا گیا عمرو نے بھی اس کو مان لیا دوران مقدمہ میں زید کو معلوم ہواکہ قبل رجوع دعوٰی ہذا سے بکر نے کوچہ نافذہ کو بند کرلیا اپنا مکان بجائے حد مذکور بنالیا ہے زید نے ایك سوال پیش قاضی اسی مضمون کا باظہار اس کے کہ پہلے وقت شرا کے کوچہ تھا قبل رجوع دعوٰی سے بکر نے اسی حدمیں کوچہ بند کرکے اپنا مکان بنالیاہے وقت رجوع دعوٰی کے میں نے نہ دیکھا تھا اب دیکھا تو تبدیل حد مذکور کی ہوگئی ہے بصورت مذکورہ توفیق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع