30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غمز عیون البصائر میں ہے:
|
فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم ان مایصححہ قاضیخان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس[1]۔ |
علامہ قاسم کی قدوری میں ہے کہ اقوال میں سے جس کو قاضیخان صحیح قرار دیں وہ دوسروں کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ یہ فقیہ النفس ہیں۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
کن علی ذکر مماقالوالایعدل عن تصحیح قاضیخان فانہ فقیہ النفس[2]۔ |
توفقہاء کے قول کے مطابق عمل کر جوکہتے ہیں قاضیخان کے قول سے اعراض نہ کیا جائے کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں(ت) |
تو یہ اقرار حق عمرو میں کچھ نافع نہ ہوا،مانا کہ دیوار حسب اقرار زید ملك زید نہیں مگر ملك عمرو ہونے کا اقرار بھی تو نہیں،تو مدعی بے بینہ عادلہ شرعیہ یا اقرار مدعاعلیہ یا نکول محض اپنے زعم پر کوئی چیز کسی سے کیونکر لے سکتا ہے اور قاضی کیونکر دلاسکتا ہے، فتاوی خیریہ میں ہے:
|
القاضی انما یقضی بالینۃ اوالاقرار او النکول[3]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۴۸: ۳ /شوال المکرم۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جبکہ کسی شخص کا گاؤں بلا قید آمدنی ہو یعنی جب پیداوار اچھا ہو آمدنی معقول ہو اور خراب تو کم اور یہ گاؤں اس کے والدین نے ایام نابالغی میں اس کے نام کیا بعد بلوغ باہم ایك پنچایت نامہ ۸۵ء میں بخیال زمانہ نازك ہو اپنچ نے والدین کے نام چھ سو روپے سالانہ اس کے گاؤں کی آمدنی سے دینا اس کے ذمہ قرار دے اور کوئی تفرق حصص والدین نہ کی بلکہ لکھا کہ یہ جملہ آمدنی بدست والد رہے گی وہ جس قدر چاہیں گے خود لیں گے اور جس قدر چاہیں گے اس کی والدہ کو دیں گے اس کا باپ ۸۶ء میں فوت ہوگیا اب اس کی ماں علیحدہ ہوکر پچاس روپے ماہوار کل بیٹے سے لینا چاہتی ہے تو شرعًا چھ سوروپے سالانہ سے کس قدر والدہ کو چاہئے کس قدر لڑکے کو؟بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع