30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقدم اٰخر علی الشراء منہ یکون اقرارا بملکیۃ العین للبائع علی روایۃ الجامع وعلی روایۃ الزیادات لاوھو الصحیح اھ،وکذافی التاتارخانیۃ من الصغری والنا بیع وفی السراجیۃ الاقدام علی الاستیام لایکون اقرارابملکیۃ ذلك لذی الیدعلی روایۃ الزیادات وعلی روایۃ الجامع یکون اقراراوالاول اصح وکذا فی المنیۃ فظہران فیہ اختلاف التصحیح والاکثر علی تصحیح ما فی الزیادات وانہ ظاہر الروایۃ وقال قاضیخان روی ھشام عن محمد ان المساومۃ اقرارمنہ لہ بالملك والصحیح ماذکر فی ظاہر الروایۃ انہ اقرار من حیث الظاہر فلا یصلح حجۃ للاستحقاق اھ [1]مختصرًا۔ |
خریدنا چاہتا ہے تو یہ اس چیز پر بائع کی ملکیت کا اقرار ہے جامع کی روایت کے مطابق۔جبکہ زیادات کی روایت کے مطابق ایسا نہیں اوریہی صحیح ہے اھ،اور تاتارخانیہ میں صغری اور ینابیع سے ایسے منقول ہے،اور سراجیہ میں ہے کہ کسی سے چیزکو خرید نے کا اقدام یہ قابض کی ملکیت کا اقرار نہیں ہے زیادات کی روایت پر جبکہ جامع کی روایت کے مطابق یہ اقرار ہے اوراول صحیح ہے،اور منیہ میں بھی ایسے ہی ہے تو ظاہر ہوا کہس اس مسئلہ کی تصحیح میں اختلاف ہے اور اکثریت زیادات کی تصحیح پر ہے اور یہ کہ ظاہر الروایت ہے،اور قاضی خان نے فرمایا کہ ہشام نے امام محمد سے روایت کیا ہے کہ خرید نے کا اقدام قابض کی ملکیت کا اقرار ہے،اور صحیح وہ ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے کہ یہ ظاہر میں اقرار ہے تو یہ ظاہری معاملہ استحقاق کےلئے حجت نہیں بن سکتا اھ مختصرًا(ت) |
عقودالدریہ میں ہے:
|
القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر[2]۔ |
قاعدہ کے مطابق اکثریت کی رائے پر عمل ہے۔(ت) |
قرۃ العیون میں ہے:
|
قلت فیفتی بہ لترجحہ بکونہ ظاہر الروایۃ وان اختلف التصحیح[3]۔ |
میں کہتا ہوں کہ،تو اس پر فتوٰی دیا جائے کیونکہ اکثریت اور ظاہرالروایت کی وجہ سے یہی راجح ہے اگرچہ تصحیح میں اختلاف ہے۔ (ت) |
[1] فتاوٰی انقرویہ کتاب الدعوی الباب الثانی عشر دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۲ /۱۴۸
[2] العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان۲ /۳۵۶،ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۰
[3] قرۃ عیون الاخیار کتاب الاقرار مصطفی البابی مصر ۲ /۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع