30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعدم ملکہ[1]۔ |
یہ اس کے مالك نہ ہونے کا اقرار نہیں |
رابعًا: ان سب سے قطع نظر کرکے مان ہی لیں کہ نفس عقد دیوار پر بھی وارد ہوا اور وہ بھی طلب شفعہ میں داخل تھی تاہم اس سے زید کا اس قدر اقرار حاصل ہوگا کہ یہ دیوار میری ملك نہیں،نہ یہ کہ عمرو کی ملك ہے ہمارے مذہب راجح میں کہ ظاہرالروایہ ہے اور اکثر تصحیحات ائمہ اسی جانب ہیں،اگر زید عمرو سے کوئی چیز مانگے کہ مجھے ہبہ کردے یا عاریۃً دے دے یا میرے ہاتھ بیچ ڈال یا اس کے مثل اور اقوال،تو ان سے صرف اپنی ملك نہ ہونے کا اقرار ثابت ہوتا ہے عمرو کی ملك ہونے کا اقرار نہیں نکلتا زیادات وصغری وینابیع و عمادیہ وتتارخانیہ وسراجیہ ومنیہ ووہبانیہ وغیرہا میں اسی کی تصحیح کی،امام اجل قاضیخان نے افادہ فرمایا کہ یہ اقرار ہو بھی تو بحسب ظاہر ہے اور ظاہر حجت استحقاق نہیں تو مدعی اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ردالمحتار میں منح الغفار سے ہے:
|
الحاصل روایۃ الجامع ان الاستیام والاستیجار والاستعارۃ ونحوھا اقرار بالملك للمساوم منہ والمستاجر منہ وروایۃ الزیادات انہ لایکون ذلك اقرار بالملکیۃ وھو الصحیح کذا فی العمادیۃ وحکی فیہا اتفاق الروایات علی انہ لاملك للمساوم ونحوہ فیہ[2]۔ |
جامع الصغیر کی روایت کے مطابق سودا لگانا،اجارہ پر طلب کرنا اور عاریتًا مانگنا یہ قابض جس سے چیز لی یا مانگی جارہی ہے،کی ملکیت کا اقرار ہے اور زیادات کی روایت کے مطابق یہ اس کی ملکیت کا اقرار نہ ہوگا،یہی صحیح ہے جیسا کہ عمادیہ میں ہے اور اس میں مذکورہ صورت میں ملك نہ ہونے پر روایات کا اتفاق بیان کیا گیا ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال الانقروی والاکثر علی تصحیح مافی الزیادات و انہ ظاہر الروایۃ[3]۔ |
انقروی نے کہا کہ اکثریت کا مؤقف زیادات کی تصحیح ہے،اور یہ ظاہرالروایۃ میں ہے۔(ت) |
انقرویہ میں ہے:
|
فی الصغری عین فی یدرجل |
صغری میں ہے کہ کوئی چیز کسی شخص کے قبضہ سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع