30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور خود عمرو جبکہ تخلیہ دیوار کا نالشی ہوا تو اپنا خارج اور زید کا ذوالید وقابض ہونا تسلیم کرلیا بہر حال عمرو اس مقدمہ میں شرعًا مدعی ہے پس تاوقتیکہ ثبوت مقبول شرعی سے اپنا دعوی ملك منور نہ کرے مقبول نہیں ہوسکتا دعوی شفعہ میں زید کا حوالہ بیعنامہ دینا کون سی دلیل شرعی ہے کہ اس نے بیعنامہ دیکھا اور اس کا لفظ لفظ تسلیم کرلیا بیان سائل کہ اثبات بنائے شفعہ کےلئے تاریخ رجسٹری معلوم کرکے ذکر بیعنامہ کیا گیا ہرگز قابل التفات نہیں۔
ثانیًا اگر فرض کریں کہ بیان مذکور سائل بعید از قیاس نہ ہے تو غایت یہ کہ یہ ایك قرینہ ظاہرہ ہوگا اور ظاہر مدعی کو کام نہیں دیتا،نہ اس کی بناء پر ثبوت ملك ہوسکتا ہے۔درمختار وغیرہ عامہ کتب فقہیہ میں ہے:
|
الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق[1]۔ |
ظاہر دفع کی صلاحیت رکھتا ہے نہ کہ ثبوت استحقاق کی۔(ت) |
ثالثًا:تسلیم ہی کیجئے کہ اس سے نہ صرف ظاہرًا بلکہ قطعًا ویقینا زید کا بیعنامہ کو دیکھ کر دینا اور عبارت مذکورہ لکھنا ثابت ہے تاہم اس سے کس قدر ثبوت ہوا یہ کہ زید مکان مبیع کو مملوك ومقبوض ہندہ جانتا اور بیع کو صحیح مانتا اور بذریعہ شفعہ لینا چاہتا ہے اس سے اب کب زید کو انکار ہوا وہ اب بھی کہے گا کہ واقعی ہندہ نے اپنا ہی مکان مملوك و مقبوض بیع کیا اور یہ بیع صحیح بھی ہے اور میں بذریعہ شفعہ اس کا خواستگار بھی ہوا،رہی یہ دیوار،نہ یہ مملوك ومقبوض ہندہ تھی نہ اس پر بیع وار د ہوئی،نہ میں نے شفعہ میں مانگی،الفاظ عقد بیع میں مکان ہندہ کاذکر ہے مکان ہندہ جس قدر تھا وہی ایجاب وقبول میں داخل ہوا،اسی کو بذریعہ شفعہ طلب کیا گیا ذکر حدود عقد بیع نہیں،نہ وہ حاکی ایجاب و قبول ہے،تو تسلیم صحت بیع سے تسلیم صحت جملہ الفاظ زائدہ مندرجہ بیعنامہ کیونکر لازم ہوسکتی ہے،علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بیعنامہ پر خود اپنی گواہی لکھ کر مہر کردی تاہم یہ اسکا اقرار نہ قرار پائے گا کہ شے مبیع ملك بائع ہے میری ملك نہیں وہ اس گواہی کردینے کے بعد بھی مکان مبیع پر دعوٰی ملك کرسکتا ہے جبکہ اس کے الفاظ سے صراحۃً اس کا خلاف نہ ثابت ہو۔درمختار میں ہے:
|
یؤیدہ مسألۃ کتابتہ وختمہ علی صك البیع فانہ لیس باقرار |
اس کی تائید اس مسئلہ سے ہوتی ہے فروختگی کی رسیدپر گواہ کے دستخط اور مہر ہونے کے باوجود |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع