30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلومہ مقبوضہ اپنا عوض مبلغ ماصہ عہ /قیمت اصل بموجب بیعنامہ رجسٹری شدہ ۲۲/اگست ۱۸۸۹ء بغیبت مدعی بدست مدعا علیہ بیع صحیح شرعی کیا)دیوار مذکور جس پر ہمیشہ سے زید ومورث زید کا قبضہ تھا اور رہے مکان زید کی کھپر یلیں اوران کی ترکیبیں اس پر پڑی ہیں اور ہندہ وعمروکا کوئی قبضہ اس پر نہ تھا،نہ ہے،نہ ان کے مکان کی کوئی کڑی یا ترك وغیرہ اس دیوار پر ہے،اب عمرو مدعی ہوا کہ یہ دیوار مکان مبیع ہندہ کی ہے اور میں بحکم بیع اس کا مالك ہوں زید سے دلادی جائے مگر کوئی ثبوت اس دیوار میں اپنی ملك کا نہ دے سکا سوا اس کے کہ زید نے دعوی شفعہ میں بوجہ عبارت مذکورہ امراؤ بیگم نے اپنا مکان مقبوضہ بیع صحیح شرعی کیا اس بیعنامہ کو مسلم رکھا اور اس کے حوالہ دینے سے زید کا بیعنامہ دیکھناظاہر ہے اور اس میں دیوار مذکور بھی داخل بیع تھی تو زید کا بذریعہ شفعہ اسے طلب کرنا صریح اقرار ہوچکا کہ دیوار ملك عمرو مشتری ہے حالانکہ زید نے ہر گز بیعنامہ نہ دیکھا نہ اس کے سامنے لکھا گیانہ وہ اس وقت ا س شہر میں تھا اثبات بنائے شفعہ کے لئے تاریخ رجسٹری معلوم کرکے عرضی دعوٰی میں ذکر بیعنامہ کیا تھا۔اس صورت میں علمائے شرع مطہر سے استفسار ہے کہ زید کا وہ الفاظ لکھنا دیوار ملك عمرو ہونے کا شرعًا اقرار قرار پائے گا یانہیں؟اور اس بناء پر عمرو کااستحقاق اس دیوار پر ثابت ہوسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی عمرو محض بے ثبوت ہے،نہ اس بناء پر دیوار اسے دلائی جاسکتی ہے اولًا جبکہ دیوار حسب تحریر سوال زید کے استعمال میں ہے اور عمرووہندہ کا کوئی عملہ اس پر نہیں جس سے ان کا استعمال ثابت ہو تو بحکم ظاہر دیوار ملك خاص زید ہے۔تنویرالابصار ودرمختار وغیرہما میں ہے:
|
الحائط لمن جذوعہ علیہ[1]۔ |
دیوار اس کی ہے جس کا اس پر شہتیر ہے۔(ت) |
معین الحکام میں ہے:
|
ان لاحد ھما علیہ جذوع ولاشیئ علیہ للاٰخر یقضی بہ لرب الجذوع لانہ مستعملہ[2]۔ |
ایك فریق کا اس پر شہتیر ہے اور دوسرے کا کچھ نہیں ہے تو دیوار کا فیصلہ شہتیر والے کے حق میں ہوگا کیونکہ وہ اس کو استعمال کررہا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع