30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن خمسین سنۃ والآن برزجماعۃ یدعون ان البیت لجدھم الاعلی فہل تسمع دعوٰھم مع اطلاعھم علی التصرف المذکور واطلاع اٰبائھم وعدم مانع یمنعھم من الدعوی،اجاب لا تسمع ھذہ الدعوی[1] وفیہا عن البزازیۃ علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ[2] وفی الولوالجیۃ ثم الخیریۃ ثم الحامدیۃ وغیرہما رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اٰخر رأی الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذٰلك لم تسمع بعدذٰلك دعوی ولدہ فتترك علی یدالمتصرف لان الحال شاھد[3]وفی الخیریۃ وبہ افتی شیخ الاسلام شہاب الدین احمد المصری[4]،وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی[5] و |
کیا اور اپنے والد کی طرح اس میں بغیر رکاوٹ و ممانعت تقریبًا پچاس سال کی مدت تك تصرفات کرتا رہا اور اب ایك جماعت نے دعوٰی شروع کردیا کہ یہ مکان ہمارے جداعلٰی کا ہے تصرفات مذکورہ پر ان کو اور ان کے آباء کو اطلاع ہونے کے باوجود ان کا منع نہ کرنا حالانکہ رکاوٹ نہ تھی،تو کیا اس گروہ کا دعوٰی قابل سماعت ہے،تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ یہ دعوٰی مسموع نہ ہوگا اور اس میں بزازیہ سے منقول ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے تاکہ طمع فاسدکا سد باب ہوسکے۔ولوالجیہ پھر خیریہ پھر حامدیہ وغیرہا میں ہے کہ ایك شخص زمانہ بھر زمین میں تصرف کرتا ہے اور دوسراشخص زمین اور اس میں تصرفات دیکھتا رہا اور کوئی دعوٰی نہ کیا اسی حال میں وہ فوت ہو گیا تو اب اس کے بیٹے کا دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا بلکہ زمین کو قابض کے پاس رہنے دیا جائے گا کیونکہ اس پر حال شاہد ہے، اور خیریہ میں ہے کہ شہاب الدین شیخ الاسلام احمد حلبی مصری نے اسی پر فتوٰی دیا ہے۔عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ میں ہے کہ تصرفات پر اطلاع ہونا ہی دعوٰی کے لئے مانع ہے اور |
[1] فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۵
[2] فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۹
[3] فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۵
[4] فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۹
[5] العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار افغانستان۲ /۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع