30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العلامۃ خیر الملۃ والدین الرملی سئل فی رجل اشتری من اٰخر ستۃ اذرع من ارض بیدالبائع وبنی بھا بناء وتصرف فیہ ثم بعدہ ادعی رجل علی البانی المذکوران لہ ثلثۃ قراریط ونصف قیراط فی المبیع المذکورارثا عن امہ ویرید ھدمہ والحال ان امہ تنظرہ یتصرف بالبناء والانتفاع المذکورین ھل لہ ذلك ام لا،اجاب لاتسمع دعواہ لان علمائنا نصوافی متونھم وشروحھم وفتاوٰھم ان تصرف المشتری فی المبیع مع اطلاع الخصم ولوکان اجنبیا بنحوالبناء والغرس والزرع یمنعہ من سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضا للبیع قطعا للتزویرو الاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرارابانہ ملك البائع [1]اھ ملخصا وفیہا ایضا سئل فی رجل تلقی بیتا عن والدہ وتصرف فیہ کما کان والدہ من غیر منازع ولا مدافع مدۃ تنوف |
خیرالدین رملی کے فتاوی میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے دوسرے سے چھ ذراع زمین خریدی جو کہ بائع کے قبضہ میں تھی جس کو خرید نے کے بعد خریدا رنےاس پر تعمیر کی اور دیگر تصرفات کئے پھر بعد میں ایك اور شخص نے اس خریدار مذکور پر دعوٰی کردیا کہ مبیع زمین میں ساڑھے تین قیراط میری ملکیت ہے جو مجھے والدہ سے وراثت میں ملی ہے اور وہ تعمیر کو گرانے کا مطالبہ کررہا ہے حالانکہ مدعی کی والدہ خریدار کو تعمیر وغیرہ تصرفات کرتے ہوئے دیکھتی رہی ہے تو اس مدعی شخص کو اس دعوٰی کا حق ہے یانہیں،انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا کیونکہ ہمارے علماء نے متون،شروح اور فتاوٰی میں نص فرمائی ہے کہ مبیع میں خریدار کے تصرفات پر مخالف کو اطلاع ہونے کے باوجود کہ وہ تعمیر،پودے اور زراعت جیسے تصرفات کررہاہے اتنی مدت خاموش رہنا اس کے دعوٰی کی سماعت کے لئے مانع ہے اگرچہ ایسا مدعی اجنبی کیوں نہ ہو۔صاحب منظومہ نے فرمایا کہ ہمارے اساتذہ نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اور اس کی خاموشی کو اس بیع پر رضامندی قرار دیا جائیگا تاکہ فریب لالچ،حیلہ سازی اور تلبیس کا دروازہ بند ہوسکے اور موجودگی کے باوجود اس کا منازعت نہ کرنا یہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ چیز بائع کی ملکیت تھی اھ ملخصًا،اور اس میں یہ بھی ہے کہ ایك شخص نے اپنے والد سے مکان حاصل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع