30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوٰی دختران ہر گز قابل سماعت نہیں،نہ اب وہ ترکہ ترکہ شوہر ٹھہرسکے،نہ مجردان کے بیان سے مہر کی معافی سمجھی جائے اور بیان بھی کیسا مضطرب کہ کبھی تو بربنائے رواج یہ احتمالی حکم کہ جنازہ اٹھتے وقت مہر معاف ہوجاتا ہے یہاں بھی ہوگیا ہوگا،حالانکہ یہ کلیہ بھی غلط ہے،کوئی معاف کردیتا ہے کوئی نہیں کرتا،اور سب معاف کردیا کرتے تو کیا تھا،خاص ہندہ کی معافی ثابت ہونا چاہئے تھی اور کبھی کچھ سمجھ کر یہ قطعی دعوٰی کہ معاف کردیا اگر معاف کردیا تھا تو تم نے بربنائے مہر کل جائدا د پر ہندہ کو کیوں قبضہ کرنے دیا تھا اور چوبیس پچیس برس تك اس کے تصرفات مالکانہ دیکھ کر کیوں خاموش رہیں اور اس کے انتقال پر بھی پندرہ سولہ برس کا سکوت کس کے لئے تھا یہ خاموشی چہل سالہ شرعًا قرینہ واضحہ ہے کہ دعوٰی بربنائے زوروتلبیس واتلاف حق برادر زادگان ہے،ہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح وفتاوٰی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرفات مالکانہ کرتا رہے یا بیع خواہ ہبہ خواہ کسی اور طرح دوسرے کو تملیك کرے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی جو اس شہر میں موجود ہو اور ان حالات پر مطلع ہو دعوٰی کرنے لگے کہ یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوٰی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز ہرگز نہ سنا جائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی اجنبیت اور متصرف کی مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا،
|
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدماوعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ فھل اذاادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدما و بناء فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لااجاب لا تسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی [1]،وفتاوی الامام |
سیدی علامہ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتاوٰی میں ہے کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو اجو ایك حویلی کے کمرہ میں عرصہ زائد از تین سال سے رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے کمرہ میں توڑ پھوڑ ومرمت کرتا رہا اس کا پڑوسی اس کے یہ تصرفات دیکھتا رہا تو اب اس پڑوسی کو مذکورہ تصرفات پر اطلاع کے باوجود اس کمرہ کے کل یا بعض پر دعوٰی کا حق ہے اور کیا اس کا دعوٰی قابل سماعت ہوگا یا نہیں ؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا کہ اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اس پر ہی فتوی ہے،اور امام علامہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع