دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

مسمی زید فوت ہوا،بعد وفات شوہر بموجودگی دیگر ورثاء شرعی کل متروکہ زید پر مسماۃ ہندہ زوجہ بعوض دین مہر قابض ودخیل ومتصرف مالکانہ ہوئی اورتین لڑکیاں بھی زید کی تھیں،گودین مہر کثیر التعداد تھا اور اس قدر جائداد مورث نہ تھی کہ مکتفی دین مہر کو ہو اور منجملہ جائداد متروکہ شوہری مسماۃ نے ایك قطعہ زمین بعد وفات شوہر بعوض مبلغ(صہ/)روپیہ رہن رکھا اور اس میں یہ لفظ تحریر ہے کہ مالکانہ قابض ودخیل ومتصرف ہوں اور اس فعل مالکانہ کو ورثہ تسلیم کرتے رہے اور بھی افعال مالکانہ بلا شرکت احدے ہوتے رہے،چنانچہ اس متروکہ شوہری سے اپنے بھتیجوں کو ایك مکان پختہ اراضی شوہری میں بنوایا اور بعلم وآگاہی واطلاع اور موجودگی ورثاایك مدت تك تعمیر ہوتا رہا،کوئی مزاحم ومعترض نہ ہوا،اور یہ سب افعال ملکیتی تسلیم ہوتے رہے،اور لڑکیاں جو شوہرنے چھوڑی تھیں کبھی ہارج ومزاحم نہ ہوئیں،نہ تقسیم چاہی نہ ترکہ معین ہوا،بالکلیہ زوجہ مالك و قابض ومتصرف رہی اور جمیع افعال ملکیت پر عملدرآمد ہوتا رہا کوئی مخالفت نہ کی،اور اس کے بعد بجیات مسماۃ ہندہ کے ہوتے رہے کسی لڑکی نے نہ تقسیم چاہی نہ ترکہ طلب کیا،مجرد اپنی والدہ ہندہ کے پاس آتی جاتی رہیں اور شفقت مادرانہ ہوتی رہی اب عرصہ پندرہ سولہ سال کا ہوا کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور اس کے ورثاء میں سے دو لڑکیا ں اور دوبھتیجے ہیں بموجب فرائض شریف کے دودو لڑکیوں کے اور ایك ایك برادر زادہ کاحصہ ہوتا ہے اور ۶ سے مسئلہ قرار پاتا ہے چونکہ اب لڑکیوں نے کہ حصہ قلیل ہوا جاتا ہے اور برادرزاد گان مستحق حصہ شرعی ہیں محض اتلاف حق کے لئے چالیس برس کے بعد یہ امر بیان ہوتا ہے کہ آج تك کبھی اس امر کا تذکرہ بھی نہیں آیا تھا کہ مسماۃ ہندہ کل ترکہ پر قابض بوجھہ ترکہ ہوگئی ہوگی اور کبھی یہ حیلہ پیش ہوتا ہے کہ جنازہ اٹھتے وقت اکثر مہرمعاف بھی ہوجاتا ہے،رواجًا معاف کردیا ہوگا،اور کبھی یہ بیان کہ معاف کردیا اس امر کا بیان کنندہ سوائے ان دو لڑکیوں متوفیہ کے کہ وہ خود اپنی کمی ترکہ کے سبب سے اور باغوائے اپنے اہل وعیال کے اس وقت بیان کرتی ہیں کبھی سابق بیان بھی نہیں کیا ابطال وکمی حق برادر زاد گان مسماۃ متوفیہ کےلئے باوجود عملدرآمد ہونے افعال ملکیت مسماۃ ہندہ کے ۲۵،۳۰سال تك اوراظہار قبضہ دین مہر اور عدم اظہار معافی مہر سوائے بیان سال حال مجرد بیان خیالی دو لڑکیوں کا بغیر علم وآگاہی دیگر بزرگان خاندان کے اور نہ ہونے کسی وثیقہ تحریری کے بلکہ بر خلاف اس کے عمل در آمد ہوتا رہا اور کسی وارث نے یہ ذکرنہ کیا اور انتقالات تحریری اور زبانی مسماۃ ہندہ ہمیشہ مسلم کئے پس ایسی حالتوں میں یہ مہر معاف سمجھا جائے گا یا کیا؟اور تقسیم ترکہ اب مسماۃ ہندہ کی ہوگی یا شوہر ہندہ کی قرار دینا چاہئے اور یہ عملدرآمد کیسا سمجھا جائے گا؟بینواتوجروا۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن