30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیع کو جائز نہ رکھے تو بیع مذہب راجح پر نفاذ نہ پائے گی،
|
قال العلامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدرمن کتاب الفرائض حکم الترکۃ قبل قضاء الدیون کحکم المرھون بدین علی المیت فلا تنفذ تصرفات الورثۃ فیہا ھذااذاکانت الترکۃ اقل من الدین او مساویۃ لہ واما اذا کان فیہا زیادۃ علیہ ففی نفوذ تصرفات الورثۃ وجہان احدھما النفوذ الی ان یبقی قدر الدین واظہرھما عدم النفوذ علی قیاس المرھون [1] اھ عجم زادہ عــــــہ ۔ |
علامہ سید طحطاوی نے در کے حاشیہ میں کتاب الفرائض میں فرمایا:میت پر قرض کی ادائیگی سے قبل اس کا ترکہ قرض میں رہن کے حکم میں ہوگا تو اس ترکہ میں ورثاء کے تصرفات نافذ نہ ہوں گے جبکہ ترکہ قرض سے کم یا مساوی ہو لیکن اگر ترکہ قرض سے زائد ہو توا س میں دو صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زائد میں ورثا کا تصرف نافذ ہوگا یہاں تك کہ مقدار دین باقی رہ جائے،دوسری یہ کہ ان کا تصرف نہ ہوگا مرہون چیز پر قیاس کی وجہ سے،دونوں صورتوں میں یہ دوسری زیادہ ظاہر ہے اھ عجم زادہ۔(ت) |
پس مشتریہ تاوقتیکہ ترکہ ایفا یا ابرادین سے نہ ہوجائے حصہ ہندہ پر قبضہ نہیں کرسکتی اور صرف اس کابقدر حصہ رسدی اپنے کے ادا کردینا کافی نہ ہوگا جب تك کل دین ادا نہ ہوجائے،
|
کماذکرنامن ان الدین ولولم یکن محیطا یمنع نفاذ تصرفات الورثۃ۔ |
جیسے ہم نے ذکر کیا کہ دین اگرچہ وراثت کو محیط نہ ہو وہ ورثاء کے تصرفات کے نفاذ سے مانع ہے۔(ت) |
ہاں اگر دائن روا رکھے اور اس امر پر راضی ہوجائے تو اسے اختیار ہے کہ حبس اس کے حق کےلئے تھا پس حسینی اس تقدیر پر قابض ہوسکتی ہے اور حصہ ہندہ کے عوض ان کے ثمن حق دائن میں محبوس رہیں گے کما ھو حکم المرھون المصرح بہ فی المتون(جیسا کہ متون میں مرہون چیز کا حکم تصریح شدہ ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۶: کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں،چالیس برس کا عرصہ ہوا
عــــــہ: لفظ عجم زادہ کے بعد اصل میں بیاض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع