30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سوئے او ترافع کنند حکم می شود وپیش از حکم بعزل ہر یکے متعزل گردد کما ھو حکم الحکم وھو ظاہر،واﷲسبحانہ و تعالٰی اعلم۔ |
اھ مختصرا۔ہاں اگر فریقین اپنی مرضی سے ثالث سمجھ کر اس کے ہاں پیشی کریں تو وہ ثالث ہوسکے گا اور فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کی معزولی سے معزول قرار پائے گا جیسا کہ ثالثی کا حکم و قانون ہے اور یہ واضح بات ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۴۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیں،زید نے زوجہ اول کو کل جائداد اپنی بالعوض مہر بیع کردی اور قبضہ و دخل مثل نفس خاص اپنے کے کرادیا۔اب زوجہ ثانی کہتی ہے کہ میرا بھی مہر ادا کرو ورنہ میں نالش کرکے نصف جائداد بالعوض اپنے مہر کے تقسیم کرالوں گی،آیا زوجہ ثانی تقسیم کرالینے نصف جائدا کی مستحق ہے یانہیں؟زید کہتاہے کہ ابھی مہر تجھ کو بذریعہ نالش وصول نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ طلاق نہ ہوجائے میں محنت مزدوری کرکے ادا کروں گا،آیا یہ قول زید کا درست ہے یاغلط؟
الجواب:
صورت مسئولہ میں جب زید نے وہ جائداد زوجہ اولٰی کے ہاتھ بیع کردی زوجہ ثانیہ کو اس سے نصف جائداد عوض مہر لینے کا اختیار نہیں اور دربارہ مہر جب شرط تعجیل و تاجیل سے عاری ہو اعتبار عرف کاہے ان دیار کا عرف نہیں کہ قبل از فرق مہر ادا کیا جائے پس مطالبہ زوجہ ثانیہ محض نامسموع،البتہ اس کا مہر ذمہ زید واجب الادا ہے یہ حکم قضاءً صحیح ہے مگر دیانۃً اگر اس کا اس بیع سے زوجہ ثانیہ کو محروم رکھنا ہے تو اپنی اس نیت فاسد اور اس بیع پر کہ مبنی اس نیت پر ہے عنداﷲ ماخوذ ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور ترکہ زید متوفی کا عوض دین مہر زوجہ ہندہ کے مکفول تھا عمرو نے نالش انفکاك رہن بادائے ایك سوتر یسٹھ روپیہ دین مہر کے عدالت میں دائر کرکے ڈگری حاصل کی اور بحکم عدالت کل دین مہر ہندہ کو عمرو نے ادا کردیا بعدہ ہندہ نے اپنا حصہ بدست حسینی دختر اپنی کے بیع کردیا اب حسینی حصہ ہندہ کا چاہتی ہے اس صورت میں حسینی بلاادائے دین مہر اس کے جو کل عمرو نے ادا کردیا ہے حصہ ہندہ کا تقسیم کراسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر ہے کہ وہ ادا کرنا جانب عمرو سے بطریق تبرع نہ تھا اور یہ دین ترکہ سے کم ہے اور سوا اس کے میت پر اور دین نہیں، پس تصرف ہندہ کا اپنے حصہ میں بیع کے ساتھ صحیح ہوا کہ دین غیر مستغرق مانع ملك ورثہ نہیں مگر باوجود اس کے بوجہ تعلق حق دائن یا مرہون کے لئے محبوس رہے گا،اور دائن اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع