دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

سوئے او ترافع کنند حکم می شود وپیش از حکم بعزل ہر یکے متعزل گردد کما ھو حکم الحکم وھو ظاہر،واﷲسبحانہ و تعالٰی اعلم۔

اھ مختصرا۔ہاں اگر فریقین اپنی مرضی سے ثالث سمجھ کر اس کے ہاں پیشی کریں تو وہ ثالث ہوسکے گا اور فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کی معزولی سے معزول قرار پائے گا جیسا کہ ثالثی کا حکم و قانون ہے اور یہ واضح بات ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ۴۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیں،زید نے زوجہ اول کو کل جائداد اپنی بالعوض مہر بیع کردی اور قبضہ و دخل مثل نفس خاص اپنے کے کرادیا۔اب زوجہ ثانی کہتی ہے کہ میرا بھی مہر ادا کرو ورنہ میں نالش کرکے نصف جائداد بالعوض اپنے مہر کے تقسیم کرالوں گی،آیا زوجہ ثانی تقسیم کرالینے نصف جائدا کی مستحق ہے یانہیں؟زید کہتاہے کہ ابھی مہر تجھ کو بذریعہ نالش وصول نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ طلاق نہ ہوجائے میں محنت مزدوری کرکے ادا کروں گا،آیا یہ قول زید کا درست ہے یاغلط؟

الجواب:

صورت مسئولہ میں جب زید نے وہ جائداد زوجہ اولٰی کے ہاتھ بیع کردی زوجہ ثانیہ کو اس سے نصف جائداد عوض مہر لینے کا اختیار نہیں اور دربارہ مہر جب شرط تعجیل و تاجیل سے عاری ہو اعتبار عرف کاہے ان دیار کا عرف نہیں کہ قبل از فرق مہر ادا کیا جائے پس مطالبہ زوجہ ثانیہ محض نامسموع،البتہ اس کا مہر ذمہ زید واجب الادا ہے یہ حکم قضاءً صحیح ہے مگر دیانۃً اگر اس کا اس بیع سے زوجہ ثانیہ کو محروم رکھنا ہے تو اپنی اس نیت فاسد اور اس بیع پر کہ مبنی اس نیت پر ہے عنداﷲ ماخوذ ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور ترکہ زید متوفی کا عوض دین مہر زوجہ ہندہ کے مکفول تھا عمرو نے نالش انفکاك رہن بادائے ایك سوتر یسٹھ روپیہ دین مہر کے عدالت میں دائر کرکے ڈگری حاصل کی اور بحکم عدالت کل دین مہر ہندہ کو عمرو نے ادا کردیا بعدہ ہندہ نے اپنا حصہ بدست حسینی دختر اپنی کے بیع کردیا اب حسینی حصہ ہندہ کا چاہتی ہے اس صورت میں حسینی بلاادائے دین مہر اس کے جو کل عمرو نے ادا کردیا ہے حصہ ہندہ کا تقسیم کراسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

سائل مظہر ہے کہ وہ ادا کرنا جانب عمرو سے بطریق تبرع نہ تھا اور یہ دین ترکہ سے کم ہے اور سوا اس کے میت پر اور دین نہیں، پس تصرف ہندہ کا اپنے حصہ میں بیع کے ساتھ صحیح ہوا کہ دین غیر مستغرق مانع ملك ورثہ نہیں مگر باوجود اس کے بوجہ تعلق حق دائن یا مرہون کے لئے محبوس رہے گا،اور دائن اگر


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن