30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویؤیدہ ماقد منافی مسألۃ الاولی عن المبسوط والمعراج وجامع الفصولین وغیرہا ثم رأیت العلامۃ البحرایدہ بہ فی البحرحیث قال بعد نقل کلام الکمال ویؤیدہ مافی جامع الفصولین [1]الخ، وظاھرًا حکم نیز نشود اگر رفتن متخاصمین پیش او ہمیں بربنائے تفویض حاکم ست قال فی ردالمحتار فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عہد نافی بلادنا مصالحون لانھم تقلدواالقضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان الرفع لیس علی وجہ التحکیم بل علٰی اعتقاد انہ ماضی الحکم الاتری ان البیع ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذاتقدمہ بیع باطل او فاسد وترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب اٰخر فکذاھنا [2]اھ باختصار آرے اگر خصمین برضائے خود
|
مسئلہ میں ہم نے جو مبسوط،معراج،جامع الفصولین وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے پھر میں نے علامہ بحر کو اسی سے اس کی تائید بحر میں کرتے ہوئے دیکھا جہاں انہوں نے کمال کے کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ جامع الفصولین کا بیان اس کی تائید کررہا ہے الخ۔ظاہر یہ ہے کہ کافر کا مقرر کردہ قاضی ثالث بھی نہیں بن سکتا بشرطیکہ فریقین اس نظریہ سے اس کے ہاں پیش ہوں کہ یہ حاکم کا مقرر کردہ ہے، ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں بزازیہ سے منقول ہے کہ ہمارے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت سے قضاء حاصل کی ہے تو قاضی نہ ہوئے،تاہم اگر مقدمہ پیش ہوتو وہ ثالث کی حیثیت سے فیصلہ کرسکتے ہیں،اس پر اعتراض ہوا کہ ان کے ہاں مقدمہ بطور ثالث پیش نہیں ہوا بلکہ فریقین نے اس اعتقاد پر پیش کیا کہ وہ قاضی نافذ الحکم ہے،تو یہ فیصلہ درست نہ ہوگا،کیا دیکھتے نہیں کہ ابتداء بیع لین دین سے منعقد ہوجاتی ہے لیکن وہی بیع پہلے باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اب لین دین کے تبادلہ سے وہ بیع منعقد نہ ہوگی کیونکہ یہ دستی لین دین کا تبادلہ اب پہلے فاسد سبب پر مرتب ہے(تو یہاں بھی اگرچہ ابتداء ثالث ہوسکتا تھا لیکن اب فاسد عمل پر مرتب ہونے کی وجہ سے وہ ثالث قرار نہ پائیگا) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع