30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(۲)والیے کہ تفویض خصومتے بعالمے مستجمع شرائط صلوح للقضاء کند اگر او خود مسلمان ست ہمچو نوابان ریاستہائے اسلامیہ اگرچہ زیر دست سلطان کافر باشد سپردنش بلاریب معتبر بود وعالم درخصوص آں خصومت مثل قاضی شدہ کہ بعزل ہیچ یك از فریقین ازقضا نرودزیرا کہ والی راچوں اختیار تقلید قضادرجملہ امورست در امرے خاص بالاولٰی باشد والقضاء ممایختص بکل ما خصہ المقلد کما نصوا علیہ وفی جامع الفصولین والبحر والتتارخانیۃ والمبسوط والمعراج وغیرہا کل مصرفیہ وال مسلم من جھۃ الکفار تجوز فیہ(ولفظ الاخیر من یجوز لہ[1])اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم[2]اھ وفی البحر عن المحیط الامام الذی استعمل القاضی امر رجلا ممن یجوز شہادتہ ان یحکم بین رجلین وھو |
(۲)قضاکی اہلیت والی شرط کا جامع عالم ہو تو اس کو کسی والی نے کوئی مقدمہ سپرد کیا ہو اگر وہ والی خود مسلمان ہے جیسا کہ اسلامی ریاستوں کے نواب حضرات اگرچہ وہ کافر سلطان کے ماتحت ہیں تو یہ سپردداری بلا شك معتبر ہوگی،اور اس خاص مقدمہ میں وہ عالم قاضی کی مثل ہوگا کہ فریقین میں سے کسی کے معزول کرنے سے وہ معزول نہ ہوگبا کیونکہ جب ایسے والی کو جملہ اختیار والے قاضی کی تقرری کا اختیار ہے تو خاص ایك اختیار والے قاضی کی تقرری کا اختیار بطریق اولٰی ہوگا اور قضاء ان امو رمیں سے ہے کہ تقرری کرنے والے کی تخصیص کی وجہ سے خاص ہوجاتی ہے جیسا کہ اس پر فقہاء نے تصریح فرمائی ہے۔جامع الفصولین،بحر،تاتارخانیہ،مبسوط اور معراج وغیرہ میں ہے وہ تمام شہر جن میں کفار کی طرف سے مسلمان والی ہوں وہاں اقامت جمعہ،عیدین،خراج کی وصولی،قاضیوں کا تقرر اور یتیم لڑکیوں کا نکاح کرنا جائز ہے، آخری کے الفاظ میں(جن کو جائز ہے)کیونکہ ان پر مسلمان والی ہے اھ،بحر میں محیط سے منقول ہے کہ جو امام قاضی کی تقرری کرتا ہے وہ ایسے شخص کو فیصلہ کرنے کا حکم دے جو شہادت کی اہلیت رکھتا ہو تو جائز ہوگا اور وہ شخص |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع