30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن الطحطاوی عن الھندیۃ عن المحیط،وفی البحر لو حکم بغیر رضاھمالم یجز الاان یجیزا بعد الحکم اھ [1]مختصراوفیہ عن المحیط لوامرالقاضی رجلا ان یحکم بین رجلین لم یجز اذالم یکن ماذونا بالاستخلاف الاان یجیزہ القاضی بعد الحکم او یتراضی علیہ الخصمان[2]اھ، بالجملہ کیفما کان فرقت میان ایں زن و شو حاصل شد و درفتوائے سابقہ روشن کردہ ایم کہ اقرار زنا بمادر زن مثبت حرمت مصاہرت ست واصرار برآں نامشروط ورجوع ازاں نامقبول پس بعد عدت عناں زن ھم بدست زن باشد جزیں کس باہر کہ خواہد عقد زنا شوئی بندد۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
|
اس عالم کے عمل پر رضامندی ظاہر کردی ہے اوراس کے عمل کے نفاذ کو پختہ کردیا تو وہ عمل نافذ ہوگیا اگرچہ عالم کے عمل کے بعد راضی ہوئے لیکن بعد کا تسلیم کرنا بھی تحکیم سابق کی طرح ہے یعنی گویا انہوں نے اس کو پہلے ثالث بنایاا ور تسلیم کرلیا جسا کہ اس پر ردالمحتار میں طحطاوی سے بحوالہ ہندیہ تصریح منقول ہے کہ محیط میں ایسے ہے۔اور بحر میں ہے اگر کسی نے فریقین کی اجازت کے بغیر ثالثی فیصلہ دیا تو جائز نہ ہوگا الایہ کہ فریقین فیصلہ کے بعد اس کو تسلیم کرلیں اھ مختصرا۔اور اسی میں محیط سے منقول ہے اگر قاضی نے کسی شخص کو فریقین میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو قاضی کا حکم جائز نہ ہوگا بشرطیکہ قاضی کو اپنا خلیفہ بنانے کی اجازت نہ ہو،مگر اس صورت میں کہ اس شخص کے فیصلہ کے بعد قاضی اس کی توثیق کردے یا فریقین اس شخص کے فیصلہ کو باہمی رضامندی سے تسلیم کرلیں،تو وہ فیصلہ نافذ ہوجائیگااھ، خلاصہ یہ کہ اس مرد و عورت کے درمیان متارکہ اور فرقت ہوچکی ہے،اورپہلے ہم اپنے فتوٰی میں واضح کرچکے ہیں کہ اپنی بیوی کی والدہ سے زنا کے اقرار سے حرمت مصاہرہ ثابت ہوجاتی ہے اور یہ کہ حرمت کے لئے اس اقرار پر اصرار کرنا شرط نہیں ہے اور اس اقرارسے رجوع بھی صحیح نہیں ہے،پس عدت گزرجانے کے بعد یہ عورت خود مختار ہے وہ اس مرد کے سوا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع