30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وطلاق الزوجۃ(الٰی قولہ)وحرمۃ المصاھرۃ [1]الخ پس حکم تفریق کہ از عالم مذکور صادر شد قضائے شرعی تام ونافذ وواجب الاتباع ست از ہموں وقت مدت عدت بشمار آید واگر ازیں ہم در گزریم وحضور پدرزن نیز از جانب اوبروجہ وکالت فی الخصومۃ درخواست حکم نبودہ باشد تابترافع خصمین معنی تحکیم پدید آمدے واورااختیار تفریق ہمچوقاضی بحکم تحکیم حاصل شدے فان الحکم لہ الحکم فی کل مالیس بحد ولا قود ولادیۃ علی عاقلۃ فی التنویر حکما رجلا فحکم بینھما ببینۃ اواقراراونکول صح لوفی غیرحد وقود ودیۃ علی عاقلۃ[2]،ونیز زن را از خانہ بر آوردن وحوالت بہ پدرش کردن کہ از زوج صادر شد ایں راہم بجائے متارکہ ننہیم جائیکہ زن مدخولہ باشد وشوئے چیزے از الفاظ متارکہ برزبان نیاورد ہمچناں دستش گرفتہ بدست پدر داد بناء علی ظاہر مافی البحر وغیرہ واللفظ لہ لاتحقق للمتارکۃ الابالقول ان کانت مدخولا بھا کقولہ تارکتك اوتارکتھا اوخلیت سبیلک،
|
وقف،طلاق زوجہ،اسکے قول،حرمت مصاہرت الخ،تو عالم مذکور کا حکم تفریق شرعی قضا کے طور تام اور نافذ اور واجب الاتباع ہے اور اسی وقت سے عدت شمار ہوگی،اگر ہم اس حیثیت کو در گز بھی کرلیں تو عورت کی طرف سے اس کے والد کا بطور وکیل مقدمہ حاضر ہونا بھی فیصلہ کا مطالبہ قرار پاکر دونوں فریقوں کی طرف سے مقدمہ کی پیشی سے عالم مذکور کےلئے ثالثی کا حکم ظاہر کرتا ہے جس سے بحیثیت ثالث قاضی کی طرح اس کو تفریق کے فیصلہ کا اختیار حاصل ہوتا ہے کیونکہ ثالث کو حدود،قصاص،دیت کے ماسوا فیصلہ کرنا جائز ہے۔تنویر میں ہے کہ دونوں فریقوں نے ایك شخص کو ثالث بنایا تو اس نے گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار کی بناء پر فیصلہ کیا تو صحیح ہے بشرطیکہ حدود،قصاص اور عاقلہ پر دیت کا معاملہ نہ ہواھ۔نیز بیوی کوگھر سے نکال کر اس کے باپ کے سپرد کرنا خاوند کا یہ عمل متارکہ کے قائم مقام ہوسکتا ہے جہاں پر بیوی مدخولہ ہو اور خاوند نے متارکہ کا لفظ زبان سے ادا نہ کیاہو،اور یوں ہی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے والد کے سپرد اس کو کردیا ہو،بحر وغیرہ کے ظاہر بیان کے مطابق۔بحر کے الفاظ ہیں کہ متارکہ کا تحقق خاوند کے قول کے بغیر نہ ہوگا جبکہ بیوی مدخولہ ہو،مثلًا قول یوں ہو کہ میں نے تجھے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع