30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عالم دین کہ اعلم اہل بلد باشد قاضی و والی شرع میشود،فی النوع الثالث من الفصل الثانی من الباب الثانی من الحدیقۃ الندیۃ الطریقۃ المحمدیۃ للعلامۃ العارف باﷲسیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی عن الفتاوی العتابیۃ للامام الاجل ابی نصراحمد بن محمد بن عمر البخاری العتابی المتوفی ۵۸۶ ھ اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم [1]الخ،قطع نظر کنیم تا رجوع مسلمین بلد بسوئے او در خصومات وترافع باودر قضا باو رضابحکمش درفیصلہا |
سوال میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے اگر اس صورت میں عورت کو دوسرے شخص سے نکاح جائز ہو تو یہ جواز عالم کی تفریق سے ہوگا یا خاوند کی طرف سے بیوی کو اس کے والد کے سپرد کرنے کی وجہ سے ہوگا،اور کیا ثالث کو قاضی کی طرح تفریق کا اختیار ہے یا نہیں(اضافہ ختم ہوا)مسئولہ صورت میں حکم یہ ہے کہ جو علاقے کفار کے غلبے کی وجہ سے قاضی سے خالی ہوں تمام علماء کرام کی تصریح کے مطابق ایسے مقامات میں جو شہر کا بڑا عالم ہو وہ قاضی قرار پاتا ہے اور شرعًا والی بن جاتا ہے،طریقہ محمدیہ کی شرح حدیقہ ندیہ کی نوع ثالث کے باب ثانی کی فصل ثانی مصنفہ علامہ عارف باﷲسیدی عبدالغنی النابلسی(قدس سرہ القدسی)میں فتاوٰی عتابیہ مصنفہ امام اجل ابو نصر احمد بن محمد بن عمر بخاری عتابی متوفی ۵۸۶ھ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی سلطان سے خالی ہو تو امور علماء کے سپرد ہوجاتے ہیں اور امت پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کرے اور یہ علماء والی بن جاتے ہیں تو جب تمام لوگوں کا ایك عالم پر اجتماع دشوار ہے تو ہر علاقہ اپنے علماء کی اتباع کرے اور اگر علاقہ میں علماء کثیر ہوں تو پھر سب سے بڑے عالم کی اتباع ہوگی اور اگر سب برابرہوں تو قرعہ اندازی سے متعین کیاجائے الخ،اس سے قطع نظر شہر کے مسلمانوں کا اپنے تنازعات میں اس کی طرف رجوع کرکے فیصلے لینا اور اسکے فیصلوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع