30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مال نہ تھا،نہ بڑے بھائی نے مال مشترك سے اس کی شادی کا صرف کیا بلکہ خاص اپنا ذاتی مال اٹھایا اور اس صرف کی نہ چھوٹے بھائی نے درخواست کی تھی نہ بڑے نے اس سے اجازت لی،بلکہ بطور خود جیسے والدین اپنے بچوں اور ان کے نہ ہونے کی حالت میں بڑے بھائی اپنے چھوٹوں کی شادیاں کرتے ہیں شادی کردی،پس صورت مستفسرہ میں بڑابھائی ان مصارف کوکسی سے مجرانہیں لے سکتا،
|
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشیئ۔ |
کیونکہ جس نے غیر کے معاملہ میں اس کے حکم اور کسی مجبوری کے بغیر خرچ کیا تو وہ خرچہ بطور نیکی ہوگا لہذا اس خرچہ کی وصولی کے لئے رجوع نہ کرسکے گا۔(ت) |
ہاں اگررسم ورواج عام ظاہر سے کسی شیئ کی نسبت ثابت ہو کہ یہ چیز سامان شادی میں اس قوم میں محض بطور عاریت دی جاتی ہے دے ڈالنا مقصود نہیں ہوتا تو صرف اس شے کا استحقاق بڑے بھائی کو ہے اگر وہ شے موجود ہے لے لے اور تلف ہوگئی تو کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتا فان العواری امانات لاتضمن الابالتوی(کہ عاریتًا لی ہوئی چیزیں امانت ہوتی ہیں ضائع کئے بغیر ان کا ضمان نہ ہوگا۔ت)اور اگر چھوٹے بھائی یا اس کی زوجہ نے خود خرچ کردی تلف کرڈالی تو جس نے کی اس سے اس کا تاوان لے سکتا ہے،اسی طرح بھائی کے اولاد ہونے میں جو اٹھایا اس کا بھی مطالبہ کسی سے نہیں جبکہ بنظر عرف صرف احسان وسلوك منظور ہوتا ہو،اور اگر عرف سے یہ ثابت ہو کہ اس تقریب میں جو کچھ بڑا بھائی چھوٹے کے یہاں دیتا ہے وہ بطور قرض ہوتا ہے کہ جب اس کے یہاں تقریب ہوتو اسے معاوضہ دینا پڑتا ہے تو اس صورت میں وہ قرض ہے اس کا عوض ترکہ برادر سے پائے گاکما یستفاد ذٰلك من نص الفتاوی الخیریۃ(جیسا کہ فتاوٰی خیریہ کی تصریح سے یہ مستفاد ہے۔ت)اور صورت مسئولہ میں جب کہ بڑابھائی چھوٹے کا وارث ہے کہ زوجہ و دختر کے ساتھ بھائی بھی حصہ پاتا ہے تو جو کچھ اس نے چھوٹے بھائی کے کفن ودفن بقدر سنت میں لگایا اسی قدر مجرالے سکتا ہے اس سے زائد جو کچھ فاتحہ وسوم وچہلم میں اٹھایا وہ بھی نرااحسان تھا جسے کسی سے مجرا نہ پائے گا کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی فی فرائض حاشیۃ علی الدرالمختار(جیسا کہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں اس پر تصریح کی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۸: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی صاحب غرہ۲ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام سابق میں قصبہ بڑوانی میں حاکم ہنود تھا اس کو بادشاہ اسلام نے مشرف باسلام کرکے عہدہ قضاء پر مقرر کیا تھا بعد معدود الایام کے وہ راہی سوئے جناں ہو ااس کی اولاد سے ورثہ مسلم نہ تھا اولاد ہنود اس کی اس کے قائم مقام ہوئی اور دفتر قضابھی اس کے قبضہ میں رہا ان ایام میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع