30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر ایسا نہ ہو تو شہر کا عالم کہ عالم دین و فقہیہ ہو اور اگر وہاں چند علماء ہیں تو جو ان سب میں زیادہ علم دین رکھتا ہو وہی حاکم شرع ووالی دین اسلام وقاضی وذوی اختیار شرعی ہے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے کاموں میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے حکم پر چلیں،یتیمان بے ولی پر وصی اس سے مقرر کرائیں نابالغان بے وصی کا نکاح اس کی رائے پر رکھیں ایسی حالت میں اس کی اطاعت من حیث العلم واجب ہونے کے علاوہ من حیث الحکم بھی واجب،
|
فی الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ وفی العتابی اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروافالمتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم وقال السمھودی وھذامن حیث انعقاد الولایۃ الخاصۃ فلاینافی وجوب طاعۃ العلماء مطلقًا [1]الخ۔ |
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے کہ عتابی میں ہے کہ جب سلطان اسلام سے زمانہ خالی ہو تو پھر امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہی والی قرار پائیں گے اورامت پر لازم ہوگا کہ ان کی طرف رجوع کریں اور ایك عالم پر اجتماع سب کے لئے دشوار ہوتو ہر علاقہ اپنے اپنے علماء کی اتباع کرے،اور اگر ایك علاقہ میں علماء کثیر ہوں تو بڑے عالم کی اتباع ہوگی،تو اگر وہ سب مساوی ہوں تو ایك کو قرعہ اندازی کے ذریعہ متعین کریں۔سمہودی نے فرمایا:یہ بیان ولایت خاصہ کے متعلق ہے تو علماء کی مطلقًا اطاعت کے وجوب کے منافی نہ ہوگا الخ۔ (ت) |
رہے یہ نکاح خوانی کے قاضی جو گاؤں گاؤں مقرر ہوتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں،نہ انہیں کچھ ولایت،کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۷: یکم صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایك بھائی نے چھوٹے بھائی کی شادی کی،بعد انتقال والدین کے،اپنے پاس سے رسومات شادی میں مثل زیور اور پارچہ وغیرہ میں صرف کیا،بعدہ اولاد ہونے میں صرف کیا،اورجب اس بھائی کا انتقال ہوا تو صرف تجہیز و تکفین اور چہلم وغیرہ کا کیا،پس اس صورت میں زوجہ اور دختر کے حصہ سے کس قدر ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ چھوٹا بھائی وقت شادی بالغ تھا،قریب بیس برس کے عمر ہوگی،اور اس کا اپنا کچھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع