30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بموجب رواج یا اخلاق انسانی کے زید کی دعوت کرے یا کوئی تحفہ کسی قسم کا پیش کرے تو اس کا لینا داخل رشوت ہے یانہیں اور جائز ہے یاناجائز؟
(۲)زید بحکم حاکم وقت کے تحقیقات کے واسطے اسی علاقہ میں جس کا وہ مہتمم ہے کسی فریق کے مکان پر جائے یا بصورت نہ ہونے فریق ثانی بمقابلہ حاکم کے تحقیقات بکر کو جائے اس وقت کھانا کھلانا بکر کا یا معمولی تحفہ پیش کرنا اور زید کو اس کا قبول کرنا داخل رشوت وناجائز ہوگا یا جائز درحالیکہ بغیر خدمت گزاری بکر کے بھی زید کا طریق عمل یکساں ہے۔
(۳)بخلاف ہر دو دفعات کے اگر زید حاکم مختار وفیصلہ قطعی کرسکتا ہے تو زید کو اپنے حدود علاقہ کے اندر دعوت وتحفہ کا قبول کرنا کیسا ہے،جائز یا ناجائز؟
(۴)جس حالت میں زید کے طریق عمل سے بکر واقف ہوجائے کہ دعوت وتحفہ سے زید میرے حق میں کچھ رعایت نہ کرے گا اپنے طریق عمل پر پورا قائم رہے گا اور باوجود اس عمل کے نمبر ۱و۲کا برتاؤ کرے تو جائز ہے یاناجائز؟
الجواب:
جو شخص بذات خود خواہ از جانب حاکم کسی طرح کا قہر وتسلط رکھتا ہو جس کے سبب لوگوں پر اس کا کچھ بھی دباؤ ہواگرچہ وہ فی نفسہ ان پر جبر وتعدی نہ کرے دباؤ نہ ڈالے اگرچہ وہ کسی فیصلہ قطعی بلکہ غیر قطعی کا بھی مجاز نہ ہو جیسے کو توال،تھانہ دار،جمعدار یا دہقانیوں کے لئے زمیندار مقدم پٹواری یہاں تك کہ پنچایتی قوموں یا پیشوں کے لئے ان کا چودھری،ان سب کو کسی قسم کے تحفہ لینے یا دعوت خاصہ(یعنی وہ دعوت کہ خاص اسی کی غرض سے کی گئی ہو کہ اگر یہ شریك نہ ہو تو دعوت ہی نہ ہو)قبول کرنے کی اصلًا اجازت نہیں مگر تین صورتوں میں،اول اپنے افسر سے جس پر اس کا دباؤ نہیں،نہ وہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ ہدیہ ودعوت اپنے معاملات میں رعایت کرانے کے لئے ہو۔دوم ایسے شخص سے جو اس کے منصب سے پہلے بھی اسے ہدیہ دیتا یا دعوت کرتا تھا بشرطیکہ اب سے اسی مقدار پر ہے ورنہ زیادت روا نہ ہوگی مثلًا پہلے ہدیہ ودعوت میں جس قیمت کی چیز ہوتی تھی اب اس سے گراں قیمت پر تکلف ہوتی ہے یا تعداد میں بڑھ گئی یا جلد جلد ہونے لگی کہ ان سب صورتوں میں زیادت موجود اور جواز مفقود،مگر جبکہ اس شخص کا مال پہلے سے اس زیادت کے مناسب سب زائد ہوگیا ہو جس سے سمجھا جائے کہ یہ زیادت اس شخص کے منصب کے سبب نہیں بلکہ اپنی ثروت بڑھنے کے باعث ہے۔سوم اپنے قریب محارم سے،جیسے ماں باپ اولاد بہن بھائی نہ چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹے کہ یہ محارم نہں اگرچہ عرفًا انہیں بھی بھائی کہیں۔محارم سے مطلقًا اجازت ظاہر عبارت قدوری پر ہے ورنہ امام سغناقی نے نہایہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع