30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے کام کی اجرت باپ سے لینی جائز نہیں،نہ اس کی خدمت پر اجیر بن سکتا ہے کہ خدمت پدری طاعت الٰہی ہے اور طاعات پر اجارہ ناجائز،علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں کتاب الفرائض میں فرماتے ہیں:
|
الولد اذااٰجر نفسہ لوالدہ لیخدمہ وکذالمرأۃ اجرت نفسہا من زوجہا لتخدمہ لم یجز لان خدمتہا تقع صلۃ للزوج فصارت مستحقۃ فلم تجز الاجارۃ [1]اھ ملخصًا۔ |
جب بیٹے نے اپنے آپ کو والد کا یا بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کا مزدور بنایا تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکیں تو یہ جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ خدمت خاوند کے لئے صلہ ہے لہذا وہ اس خدمت کا حقدار ہے تو اجارہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصًا(ت) |
خزانۃ المفتین میں فتاوی امام قاضیخان سے ہے:
|
الاب اذا استاجر ابنہ البالغ فعمل الابن لااجرلہ[2]۔ |
باپ جب اپنے بالغ بیٹے کو اجیربنائے اور بیٹاکام کرے تو بیٹے کو اجرت نہ ملے گی۔(ت) |
رہا باپ کا اسے اپنی میراث سے محروم کرنا وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے حصہ نہ دیا جائے یا خیال جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنے فلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کرجائے ایسی ہزار تدبیریں ہوں کچھ کار گر نہیں نہ ہر گز وہ ان وجوہ سے محجوب الارث ہوسکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزۃ جل وعلا ہے جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہوسکتا بلکہ جبرًا دلایا جائے گا اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے مجھے اپنی وراثت منظور نہیں میں حصہ کا مالك نہیں بنتا میں نے اپنا حق ساقط کیا پھردوسرا کیونکر ساقط کرسکتا ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی" یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلٰدِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ"[3]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اﷲ تعالٰی تمہیں اولاد کے متعلق وصیت فرماتا ہے بیٹے کو دو بیٹیوں کا حصہ ہے۔(ت) |
اشباہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع