30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شجرۃ فی ھذہ الحالۃ فھی لابیہ نص علیہ علماؤنا حمھم اﷲ تعالٰی[1]۔ |
حتی کہ اگر وہ کوئی پود الگائے تو اس حالت میں پوداوالد کا ہوگا، اس پر ہمارے علماء کرام رحمہم اﷲتعالٰی نے تصریح فرمائی ہے۔ (ت) |
اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے، خیریہ وعقود میں ہے:
|
سئل فی ابن کبیرذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ھل ھی لوالدہ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل واما قول علمائنا یکون کلہ للاب فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحدمنھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوابہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدارالحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلك [2]اھ ملخصًا۔ |
ایسے جوان شادی شدہ عیالدار بیٹے جس کا اپنا مستقل کاروبار ہے اور کاروبار میں اموال حاصل ہوئے،کے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ اموال اس بیٹے کی ملك ہوں گے یا والد کے ہوں گے،جواب دیا کہ بیٹے کی ملك ہیں جبکہ یہ بیٹے کا اپنا مستقل کاروبار ہے ہمارے علماء کرام کا یہ ارشاد کہ وہ تمام والد کا ہے ان کا یہ ارشاد چند شرطوں سے مشروط ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے معلوم ہے ان شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ باپ بیٹے کا کام ایك ہو،بیٹے کا پہلے سے اپنا مال نہ ہو،بیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ان شرائط میں سے جب کوئی شرط مفقود ہوتو بیٹے کی کمائی والد کے لئے نہ ہوگی،مسئلہ کے بیان میں علماء کی ذکر کردہ علت پر غور کرنا چاہئے انہوں نے فرمایا:جب بیٹا باپ کی عیال میں شامل ہو اور اس کا معاون ہو تو حکم کا مدار اس پر ہے کہ وہ اس میں باپ کا معاون ہو،یہ معلوم ہونا ضروری ہے اھ ملخصا۔(ت) |
مگر جو چہارم حصہ پیداوار میں باپ نے اسے دینا کہا تھا اس کا دعوٰی اسے کسی حالت میں نہیں پہنچتا کہ اگر وہ کہنا محض بطور وعدہ واحسان تھا اور غالب یہی ہے جب تو پر ظاہر کہ لاجبر فی التبرع(تبرع میں جبر نہیں۔ت)اور اگر بروجہ معاوضہ محنت وعقد اجارہ تھا تو جہالت اجروفساد اجارہ سے قطع نظر بیٹے کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع