30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دینے سے دست بردار ہے اور جس فرزنداول قبیلہ کومحروم کرنا چاہتا ہے بالغ اور جوان ہے ابتدا میں یہ اپنے باپ کے ساتھ کمانے میں بصورت تجارت کے شامل رہا اور پورا مدد گار،پھر کچھ عرصہ علیحدہ ہوکر چند سال نوکری میں مصروف رہا بحالت نوکری اس کے باپ نے بہت خواہش سے نوکری سے جداکردیا،وجہ اس کا یہ ہے کہ اس شخص کے باپ کے زراعت کاکام بہت ہے اور ماسوا اس کے تنازعات اس کے لوگوں کے ساتھ بہت رہتے ہیں،جب وہ نوکری سے بموجب خواہش باپ کے الگ ہوا تو مقابلہ بھی لوگوں سے کرتا رہا،غرض اس نے کل کارروائی باپ کی کوبخوبی انجام دیا،باپ الگ ایك جگہ دوسرے شہر میں دکانداری کرتا رہا،باپ نے پیداوار زمینداری سے جو زیر اہتمام اس فرزند کے تھا چہارم حصہ پیداوار کا بلاخرچہ(خرچہ اپنے ذمہ رکھ کر)دیتا گیا،کچھ عرصہ تك وفا کیا اب بالکل بپاس خاطر زوجہ دوسری کے اور اس زوجہ کے فرزندان اور دختر ان کے پہلے قبیلہ اور اس کے فرزند بالغ کو جواب دے دیا اور اپنی خدمات سے الگ کردیا،اب اس کے پاس کوئی اثاثہ نہیں ہے اور نہ توفیق ہے کہ باہر جاکر تلاش نوکری کی کرے،باپ کے قبضہ میں دو قسم کی جائداد ہے ایك وہ جو جدی ہے دوسری وہ جو بشمولیت اس فرزند بالغ کے خود پیدا کیا ہے،اس کے بارہ میں شرع شریف کا کیاحکم ہے کہ آیا فرزند بالغ کچھ لے سکتا ہے کہ نہیں؟اور اگر باپ محروم کرنا چاہے تو ہوسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
تجارت زراعت وغیرہا جس کام میں فرزند نے اپنے باپ کی اعانت ومددگاری کے طور پر کچھ کمایا وہ صرف ملك پدر ہے یعنی جب تك اس کا خورد ونوش ذمہ پدر تھا اور اپنا کوئی ذاتی مال وکسب جداگانہ نہ رکھتاتھا بلکہ اسے حرفت وکسب پدری میں جس طرح سعید بیٹے اپنے باپ کی اعانت کرتے اور اسے کام کی تکلیف سے محفوظ رکھتے ہیں اس کا معین ومددگار تھا تو جو کچھ ایسی وجہ وحالت میں کمایا سب باپ کا ہے جس میں بیٹے کے لئے کوئی حق ملك نہیں،فتاوٰی خیریہ پھر عقو دالدریہ میں ہے:
|
حیث کان من جملۃ عیالہ والمعینین لہ فی امورہ واحوالہ فجمیع ماحصلہ بکدہ وتعبہ فھو ملك خاص لابیہ لاشیئ لہ فیہ حیث لم یکن لہ مال ولو اجتمع لہ بالکسب جملۃ اموال لانہ فی ذٰلك لابیہ معین حتی لو غرس |
جب وہ والد کی عیال میں ہے اور والد کے معاونین میں سے ہے تو ایسی صورت میں والد کے امور اور احوال میں جو بھی اس کی محنت وکاوش سے حاصل ہو گا وہ خاص والد کی ملکیت ہوگا اس میں اس کے بیٹے کا مال نہ ہونے کی صورت میں کو ئی ملکیت نہ ہوگی اگرچہ اس بیٹے کی محنت سے بہت سے اموال جمع ہوئے ہوں کیونکہ وہ اس میں والد کا معاون ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع