30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوارث لقیامہ مقام مورثہ فیصدق فی جہۃ التملیک، فصولین،ممایکون القول فیہ للمملك [1]اھ ملخصا، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وارث چونکہ مورث کے قائم مقام ہے اس لئے جہت تملیك کے بیان میں اس کی تصدیق کی جائے گی،جامع الفصولین، وہاں جہاں مالك بنانے والے کی بات مانی جاتی ہواھ ملخصًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۳۰: ۸/شعبان ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے مسماۃ ہندہ میری زوجہ نے مرتے وقت مجھے اپنا مہر بمواجہہ چار عورتوں کے معاف کردیا وارثان ہندہ نے جو ان عورتوں سے دریافت کیا ان میں سے دو نے محض انکار کیا،ایك کا بیان مذبذب رہا،چوتھی سے ابھی پوچھنے کی نوبت نہ آئی،ایسی حالت میں شرع شریف ایسی گواہیوں پر معافی مہر کا حکم دیتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
نہ مذبذب بیان مسموع اذلاشھادۃ الاعن علم(کیونکہ شہادت بغیر علم نہیں ہوتی۔ت)نہ یہاں ایك کی گواہی معتبر اگرچہ مرد ہو لاشتراط العدد نصا(گواہوں کی تعداد مشروط ہونے پر نص ہے۔ت)نہ تنہا عورتوں کی شہادت مقبول اگرچہ دو چار ہوں کما نص علیہ القراٰن العزیز(جیسا کہ اس پر قرآن عزیز نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ وارث کے لئے مرض موت کی معافی بے اجازت دیگر ورثہ نافذ ہوسکے،
|
لانہ فی حکم الوصیۃ ولاوصیۃ لوارث الاان یجیزھا الورثۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وارث کے لئے وصیت نہیں مگر جہاں باقی ورثاء جائز تسلیم کرلیں،کیونکہ یہ معاملہ وصیت کے حکم میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۳۱: ازکلانور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۵/شوال ۱۳۱۰ھ
حضرت من مولٰنا فیاض دارین جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب خاص مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ۔بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت قدمین شریف کے التماس ہے کہ ایك صورت مسئلہ کی عرض کیا چاہتا ہے،جناب اس کے مقابلہ میں تحریر مسئلہ کی فرمائیں،ایك شخص کا ایك قبیلہ یعنی عورت زوجہ اور ایك اس زوجہ کافر زند ہے س کے سوااس شخص کا دوسرا زوجہ ہے اس کا بھی ایك فرزند ہے اور دو دختر ہیں اس شخص نے بخاطر زوجہ ثانی کے اول قبیلہ کے فرزند کو محروم الارث کرنا چاہتا ہے اور اس کی والدہ کو اخراجات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع