دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

اسی حالت پر ہے تو صرف ان ۵بسووں میں جو نجم النساء کے ہاتھ میں تھے کنیز شیریں کا حق جاننا اور دوسری پٹی میں نہ ما ننا محض غلطی ہے بلکہ حکم شیوع جو ٹکڑا جہاں کہیں ہے ہر ایك میں کنیز شیریں والٰہی بیگم حصہ رسد شریك ہیں اب اگر اس فرضی جدائی کو اصلًا نظر سے ساقط کیجئے جب تو نہایت ظاہر کہ الٰہی بیگم نے اپنے حق سے بہت کم میں اثبات ملك کرایا حق اس کا ۵بسوہ ۵-۵/۶کچوانسی تھا اور ڈگری صرف ۳بسوہ ۱۰بسوانسی کی حاصل کی پھر کنیز شیریں اس کے حق خاص میں سے کس چیز کا صلہ مانگتی ہے۔اور اگر یہ خیال کیجئے کہ گو تقسیم شرعی نہیں مگر دو ٹکڑے جدا جدا ہولئے جن میں ایك پر قربان علی دوسرے پر اس کی زوجہ وپسر قابض ہوئے اور الٰہی بیگم نے بھی صرف ایك فریق پر دعوٰی کیا،تو اس نظر سے بھی دعوٰی الٰہی بیگم اس کے حصہ رسد سے کم ہے کہ اس پٹی میں بعد استثنائے حصہ نجم النساء کہ بدست بیگم زوجہ قربان علی بیع ہوا ۳ بسوہ ۵بسوانسی حق الٰہی بیگم و کنیز شیریں ہیں انہیں بلحاظ نسبت مذکورہ۱۰۸پر تقسیم کیجئے تو حاصل قسمت ۱۳-۸/۹کچوانسی ہے جسے ۵میں ضرب دینے سے ۳ بسوانسی ۹-۴/۹کچوانسی ہوتی ہیں اسی قدر رسدی حصہ کنیز شیریں ہے اور باقی ۳بسوہ ۱۱بسوانسی ۱۰-۵/۹کچوانسی حق الٰہی بیگم تھے جس میں اس نے تین بسوہ دس بسوانسی میں اپنی ملك ثابت کرائی تو کنیز شرییں کے حق میں کون سی مزاحمت کے دعوی کنیز شیریں کاحاصل یہ ہے کہ اس قدر بھی تیری ملك نہیں یا اگرچہ تیری ملك ہے مگر اس میں سے کچھ مجھے واپس دے حالانکہ اس سے زائد اس کی ملك ہے کہ اور ملك غیر پر دعوٰی کرنا محض بے معنی اور اگر ان سب تحقیقات نفیسہ سے قطع نظر کیجئے اور خواہی نخواہی مان ہی لیجئے کہ تقسیم مذکور صحیح تھی اور یہی ۵بسوہ بالتعین ترکہ وجیہ الدین تھے اور خاص انہیں میں استحقاق کنیز شیریں ہے تاہم اس تقدیر باطل پر بھی دعوٰی کنیز شیریں کہ حصہ رسدی پاؤں کوئی معنٰی نہیں رکھتا رسدی حصہ کا تو یہ حاصل کہ جس قدر پر الٰہی بیگم نے ڈگری پائی یہ اور وہ ۵بسوانسی کہ باقی رہیں دونوں ٹکڑوں میں الٰہی بیگم و کنیز شیریں اپنے اپنے حصوں کی نسبت سے شریك ہیں بحساب اربعہ متناسبہ اس مقدار ڈگری شدہ میں جو کچھ حصہ کنیز شیریں نکلے اب ملے باقی حصہ الٰہی بیگم ہو اور ۵بسوانسی میں دونوں کا دعوٰی رہے حالانکہ اس تقدیر باطل پر الٰہی بیگم جس قدر ترکہ وجیہ الدین سے استحقاق رکھتی تھی اس سے ۴-۱/۶کچوانسی زیادہ کی ڈگری پاچکی کمایظھر ممااسلفنا بیانہ(جیساکہ ہمارے پہلے بیان سے ظاہر ہے۔ت)تو رسدی حصہ مانگنے کے کیا معنی،بلکہ قدر زائد یعنی ۴-۱/۶کچوانسی کا دعوٰی کرنا تھا،غرض ساری غلطی کا منشایہ ہے کہ کنیز شیریں یعنی اس کے مختار عام نے اثبات ملك واستقرار حق کرانے کو بالتعیین ایك پارہ معینہ مفرزہ منقسم پر قبضہ کرلینا سمجھتا ہے حالانکہ ان کا بدیہی فرق ایسا نہیں جو کسی پر مخفی رہے،پس بہ نہایت پارہئ معینہ مفرزہ منقسم پر قبضہ کرلینا سمجھتا ہے حالانکہ ان کا بدیہی فرق ایسا نہیں جو کسی پر مخفی رہے،پس بہ نہایت وضوح روشن ہوگیا کہ کنیز شیریں کا دعوٰی اصلًا وجہ صحت وقابلیت سماعت نہیں رکھتا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہ وبارك وسلم۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن