30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنویر الابصار میں ہے:
|
شرکۃ ملك وھی ان یملك متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیر ھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ الخ[1]۔ |
شرکت ملك یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں وراثت یا بیع یا کسی اور طرح مشترکہ مالك ہوجائیں اور ہر ایك دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا الخ۔(ت) |
تو ظاہر ہے کہ اگر ان میں ایك کسی غاصب پر دعوٰی کرکے اپنے مقدار حصہ میں اپنا اثبات ملك واستقرار حق کرائے تو اس ثبوت واستقراء میں دوسرے شریك کا ہر گز کوئی استحقاق نہیں آسکتا کہ جو سہام ایك کو پہنچتے ہیں دوسرے کا اس میں کیاحق ہے اس کے لئے اس کے سہام جدا ہیں پس ایك کے تقرر حق میں مزاحم ہونا گویا بعینہٖ یہ کہنا ہے کہ تو اپنے سہام میں مجھے شریك کرلے اور اپنے خاص حق سے مجھے کچھ دے دے اس کے کوئی معنی نہیں،نہ ایسا دعوٰی قابل سماعت،ہاں اگر ایك شریك بے تقسیم شرعی ملك مشاع سے کسی معین ٹکڑے پر قبضہ کرلے تو بیشك دوسرے کا اس پر دعوٰی پہنچتا ہے کہ جب شیوع ہے ہر ہر ذرہ میں دونوں کا استحقاق ہے۔
|
فلایقبض شیئا معینا الاوقد قبض ملك صاحبہ مخلوطامع ملك نفسہ کما نص علیہ فی الکتب جمیعا۔ |
تو کسی معین چیز کا قبضہ دوسرے کے حصہ پر مخلوط قبضہ کے بغیر اپنے حصہ پر نہ ہوسکے گا جیسا کہ تمام کتب میں اس پر تصریح ہے۔(ت) |
یا ایك شریك جھوٹا دعوٰی کرکے اپنے حق سے زیادہ میں اپنے لئے اثبات ملك کرالے تو بھی دوسر ے کی مزاحمت بجا ہے کہ اس نے اس کے حق میں دست اندازی کی یدل علی کل ذٰلك فروع جمۃ مذکورۃ فی کتب المذھب(اس پر کتب مذہب میں مذکور کثیر فروعات دال ہیں۔ت)غرض ان دو صورتوں کے سوا مجرد اثبات ملك واستقرار حق میں دوسرے شریك کی مزاحمت محض بیہودہ ونامسموع ہے۔جب یہ امور منقح ہولئے اور پر ظاہر کہ یہاں احتمال صحت دعوٰی کی صورت اولٰی یعنی قبض شے معین مفرز تو واقع نہ ہوئی کہ الٰہی بیگم نے ان ۳بسوہ ۱۰بسوانسی کا پٹی بانٹ کراگر کوئی مستقل قبضہ بالتعین نہ کیا تو صرف صورت ثانیہ یعنی حق سے زیادہ اثبات ملك کرالینے کا دیکھنا باقی رہا اگر یہ ۳ بسوہ ۱۰بسوانسی حق الٰہی بیگم سے زائد ہیں تو بیشك کنیز شیریں کو صرف قدر زائد میں اختیار مزاحمت ہے ورنہ اصلًا نہیں،مگر ہم تحقیق کر آئے کہ ترکہ وجیہ الدین کوکریم الدین کی جدائی جو ا س تقسیم باطل کا حاصل تھی محض غلط ہے بلکہ وہ ساری جائداد جس طرح حیات ہر دو برادر میں مختلط وغیر منقسم تھی اب تك بدستور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع