30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے اذن مالکان بیچیں تو بیع اگر حیات بیگم میں واقع ہوئی تو بوجہ موت بلااجازت اس کے حصے یعنی ابسوانسی ۵/۶کچوانسی میں باطل محض ہوگئی جسے کنیز شیریں بھی نافذ نہیں کرسکتی کما قدمنا عن الھندیۃ(جیسا کہ ہم پہلے ہندیہ سے نقل کرچکے ہیں۔ت)اور اس کے بعد ہوئی تو مثل حصہ کنیز شیریں اجازت کنیز شیریں پر موقوف رہی جس کی تنفیذ وابطال کا اختیار کنیز شیریں کواب تك حاصل ہے۔
|
ولا تکون دعوٰھا مسقطۃ لخیارہا ومعینۃ لابطال البیع کما حققہ المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر شرح الھدایۃ۔ |
اس کا دعوی اس کے خیار کو ساقط کرے گا نہ بطلان بیع کےلئے معاون ہوگا جیساکہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔(ت) |
بہر طور مجموع۰ابسوہ سے ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی پر کنیز شیریں کوہر طرح دعوٰی پہنچتا ہے۔
نسبت حصص:ہماری تقریر سے واضح ہوگیا کہ ۱۰بسوہ کس قدر حقیت کنیز شیریں والٰہی بیگم کےلئے محفوظ،اور اس میں ہر ایك کا حق کتنا ہے،اب ان دونوں کے حصوں میں نسبت دریافت کرنے کے لئے بغرض تیسیر طریق سب کسور کو کسر اصغر یعنی سدس ۱/۶ کچوانسی کا ہمجنس کیجئے تو حصہ الٰہی بیگم(۸۷۵ء ا)ہے اور نصیب کنیز شیریں ۶۲۵یہ دونوں توافق بخمس خمس خمس بجزءٍ من مائۃ وخمسۃ وعشرین رکھتے ہیں اول کا وفق ۱۰۳ دوم کا پانچ تو حصہ کنیز شیریں کو حق الٰہی بیگم سے وہی نسبت ہوئی جو پانچ کو۱۰۳ سے ہوتی ہے اسی سے ہر جز و جائدا د میں ان کا رسدی حصہ معلوم ہوجائے گا یعنی بوجہ بطلان تقسیم وبقائے شیوع جائداد محفوظ ۵بسوہ ۱۲ بسوانسی ۱۰کچوانسی کا جو ٹکڑا جوذرہ جہاں کہیں ہوگا اسکے ۱۰۸ سہام سے ۵ سہم کنیز شیریں اور ۱۰۳الٰہی بیگم کے ہیں۔
شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصے سے محض اجنبی ہوتا ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
شرکۃ ملك ان یتملك رجلان شیئا من غیر عقد الشرکۃ بینھما نحو ان یرثا مالا اویوھب لھما اویملکا بالشراء اوالصدقۃ لایجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الاٰخر الابامرہ وکل واحد منھما کالاجنبی فی نصیب صاحبہ ویجوز بیع احدھما نصیبہ بغیر اذنہ [1]اھ ملتقطا۔ |
شرکت ملك یہ ہے کہ دو شخص کسی ایك چیز کے عقد شرکت کے بغیر مالك ہوجائیں مثلًا دونوں ایك چیز کے وارث ہیں یا ایك چیزدونوں کو ہبہ ہوئی یا خریداری یا صدقہ کے ذریعہ ایك چیز کے مالك بنے،تو اس میں دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے حصہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا اور اپنے حصہ میں دونوں ایك دوسرے سے اجنبی ہیں لہذا ہرایك اپنے حصہ میں دوسرے کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتا ہے اھ ملتقطا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع