30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من صاحبہ فباعہ بالف درہم ودفعہ الی المشتری جاز البیع فی حصتہ[1]۔ |
سے ایك نے غصب کرکے فروخت کردیا او مشتری سے ہزار درہم لے کر اس کو قبضہ دے دیا تو فروخت کرنیوالے کے اپنے حصہ میں بیع جائز ہوگی(ت) |
اور بیع نیلام کا غیر نافذ ہونا تو اظہر من الشمس کہ جب نجم النساء اپنا حصہ بدست بیگم زوجہ قربان علی بیچ چکی تھی تواب جائداد میں اس کا کیا باقی تھا جو اس کے قرضہ میں نیلام کیا جاتا بہرحال نفاذ بیع انہیں تین حصوں یعنی مجموع ۱۰بسوہ سے ۴بسوہ ۷ بسوانسی ۱۰کچو انسی تك محدود ہے باقی ۵بسوہ ۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسی نفاذبیع سے محفوظ ہیں،دونوں ترکوں میں حصہ نظام النساء کی محفوظی تو ظاہر خواہ بیعیں اس کی حیات میں ہوئیں یا بعد کہ برتقدیر اول اس کے بے اجازت دئے انتقال کرنے اور برتقدیر ثانی اس بیع نے جو مالکوں یعنی محمد عوض وکریم بخش نے بدست الٰہی بیگم کی اگلی سب بیعوں کو جہاں تك ان کے حصوں سے متعلق نہیں باطل کر دیا۔ردالمحتار میں ہے:
|
فی البزازیۃ من القاعدی طروالبات یبطل الموقوف اذاحدث لغیر من باشر الموقوف کما اذاباع المالك ماباعہ الفضولی من غیر الفضولی ولو ممن اشتری من الفضولی [2]اھ ملخصا۔ |
بزازیہ میں قاعدی سے منقول ہے کہ قطعی فیصلے کا طاری ہونا موقوف بیع کو باطل کردیگا جب موقوف عمل کرنے والے کے غیر سے جدید بیع ہوجائے مثلًا فضولی نے جس چیز کو فروخت کیا اسی کو مالك نے کسی غیر فضولی کے پاس فروخت کردیا ہو اگرچہ یہ غیروہی ہو جس کو فضولی نے فروخت کیا تھا اھ ملخصًا(ت) |
تو مجموع ۱۰بسوہ سے ۵بسوہ ۷ بسوانسی ۵-۵/۶ کچوانسی ملك الٰہی بیگم ہوئیں۔رہی کنیز شیریں اس نے اور اس کی ماں بیگم نے اگرچہ اپنی مقدار حصص سے بہت زائدیعنی ۵ بسوہ کی بیع کی مگر یہ بیع ان کے صرف انہی حصوں پر مقتصر رہی جو کہ ترکہ ذاتی کریم الدین سے انہں ملی تھی نہ بدیں سبب کہ انہوں نے بعد تقسیم یہی پانچ بسوہ سے بیع کئے جو بالتعیین ترکہ کریم الدین فرض کرلئے گئے تھے کہ یہ فرض وتعین تو شرعًا محض بیہودہ وبے معنی تھی کما اسلفنا(جیساکہ ہم نے پہلے بیا ن کیا ہے۔ت)بلکہ اس وجہ سے کہ انہیں صرف انہی حصص کی بیع مقصود تھی اور اسی قدر پر عقد وارد کیا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) تو ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی کہ ترکہ وجیہ الدین سے انہیں پہنچیں ان کی بیع میں داخل نہ ہوئیں بلکہ غیر مالك یعنی نجم النساء خواہ نیلام کنندگان نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع