30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کنیز شیریں:۵بسوانسی ۴-۱/۶کچوانسی۔
اور کریم الدین جس کا ترکہ آٹھ سے تقسیم پاکر یوں پہنچا:بیگم:۱،کنیز شیریں:۴،نظام النساء:۳
اس کے پانچ بسوہ یوں منقسم ہوئے:
بیگم:۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسی،کنیز شیریں:۲بسوہ ۱۰بسوانسی،نظام النساء:ابسوہ ۷ا بسوانسی ۱۰کچوانسی۔یہاں سے ظاہر ہے کہ ترکہ وجیہ الدین میں حصہ نظام انساءء ۳بسوہ ۱۰بسوانسی گمان کرنا غلط تھا جس میں اس کے حق شرعی سے ۴-۱/۶ کچوانسی کی زیادتی اور کنیز شیریں کے حق میں اسی قدر کی کمی کی گئی۔بیع ہر شخص کی اپنی ہی ملك میں نافذ ہوتی ہے اور بیع ملك غیر بے اذن غیر،اجازت پر موقوف رہتی ہے اگر نہ جائز رکھے باطل ہوجائے فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
اذاباع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک[1]۔ |
جب بغیر اجازت کسی کے مال کو فروخت کیا ہو تو ہمارے نزدیك وہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی(ت) |
اور مجرد سکوت یعنی بیع کی خبر پانا اور خاموش رہنا اجازت نہیں،عالمگیری میں ہے:
|
بلغ المالك ان فضولیا باع ملکہ فسکت لایکون اجازۃ[2]۔ |
مالك کو اطلاع ملی کہ ایك اجنبی نے اس کی ملکیت فروخت کردی ہے مالك خاموش رہا تو یہ اجازت نہ ہوگی۔(ت) |
اور بعد موت مالك اس کے ورثہ جائز نہیں کرسکتے،فتاوٰی خانیہ میں ہے:
|
اذامات المالك لاینفذ باجازۃ الوارث[3]۔ |
جب مالك فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کی اجازت سے بیع نافذنہ ہوگی۔ |
بس نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں اگر نافذ ہوئیں تو صرف انہیں کے حصوں یعنی۱ بسوہ ۵بسو انسی ۱۲نسوانسی ۱۰کچوانسی ۲بسوا۱۰بسوانسی میں ہوئیں۔ عالمگیری میں ہے:
|
عبدبین رجلین غصبہ احدھما |
ایك عبد دو مالکوں کی مشترکہ ملك تھا ان میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع