30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)بائعان وغیربائعان جملہ ورثہ کے حصص متروکات میں کس کس قدر ہیں۔
(۳)بیعین کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں ونیلام کنندگان نے کیں کہاں تك اثر رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہو کہ مشتریوں کے ہاتھ میں کتنی حقیتیں اثر بیع سے محفوظ وقابل دعوٰی وارثان ہیں۔
(۴)ان محفوظ حقیتوں میں رسدی حصے کے حساب سے کنیز شیریں والٰہی بیگم کا حق کس نسبت سے ہے۔
(۵)شرکت ملك میں ایك شریك کو دوسرے کے حق سے کتنا تعلق ہے،باقی رہا یہ کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں کیاحالت رکھتی ہیں اور مشتریوں کو بوجہ تفریق صفقہ کیا کیا اختیار حاصل اور اس کے سوا اور امور متعلقہ معاملہ سے تعرض نہ کروں گا کہ یہ باتیں اس مسئلہ میں زیر بحث نہیں۔اب بتوفیق ا ﷲ تعالٰی ہرامر کاجواب لیجئے۔
تقسیم مذکور محض باطل وبے اثر ہے،اولًا:نظام النساء اس میں شریك نہ کی گئی،ہدایہ میں ہے:
|
ظہر شریك ثالث لھما والقسمۃ بدون رضاہ باطلۃ [1]۔ |
جب دو کے ساتھ تیسرا شریك ظاہرہوجائے تو پھر اس کے بغیر تقسیم باطل قرار پائے گی۔(ت) |
ثانیًا: ظاہر ہےکہ نظام النساء کا حق وجیہ الدین وکریم الدین دونوں کے ترکہ میں بروجہ شیوع تھا تو الٰہی بیگم کہ بوجہ شراء اس کے ورثہ کے قائم مقام ہوئی دونوں حصص میں استحقاق شائع رکھتی ہے اور ایسا استحقاق بالاجماع باعث انتقاض تقسیم ہوتا ہے،
عالمگیری میں ہے:
|
ان استحق جزء شائع من النصیبین انتقضت القسمۃ[2]۔ |
اگر دو حصوں کا استحقاق شائع جز یعنی ناقابل انقسام ہوتو وہ تقسیم ختم ہوجائے گی(ت) |
پس ظاہر ہوا کہ یہ پٹیاں محض نامعتبر ہیں اور ترکہ میں وراثۃً خواہ شراء جتنے حقدار ہیں سب کا حق بدستور مجموع ۱۰بسوہ میں شائع یہاں تك کہ جو ذرہ زمین لیجئے اس میں سب کا استحقاق حصہ رسد میں ہےفان ھذا ھو معنی الشیوع کما نصواعلیہ قاطبۃ(کیونکہ شیوع کا معنی یہی ہے جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ت)
تفصیل حصص:وجیہ الدین جس کا ترکہ صورت مذکورہ میں ۹۶سے منقسم ہوکریوں بٹا:
نجم النساء:۲۴،نظام النساء:۶۷،کنیزشیریں:۵کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہر ہے)اس کے پانچ بسوہ کی تقسیم یہ ہوئی:نجم النساء:ا بسوہ ۵بسوانسی،نظام النساء:۳بسوہ ۹بسوانسی ۱۵-۵/۶کچوانسی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع