30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محمد بن عبداﷲ غزی قدس سرہ الشریف نے تو کچھ اوپر تین برس گزرنے میں دعوٰی نامسموع ٹھہرایا یہاں تو چھ سال سے اونچے ہوچکے،بالجملہ اگر ایسی حالت میں ہندہ زندہ ہوتی اور وہ خود دعوٰی کرتی تو اس کی بھی نہ سنی جاتی اب کہ اس کے مرنے کے بھی کئی سال بعد ان مدعیوں کو یاد آیا کہ ہندہ تو زینب کی بہن تھی اور ہم اس کے ہمشیرہ زاد اور وہ خواہر کہلائی جاتی،ان کی بات پر کوئی بھی التفات نہ کیاجائے گا اور جائداد بدستور موصی لہماکے قبضہ میں رکھی جائے گی،
|
فی الفتاوی الخیریۃ فعلم بذلك ان الام لوکانت حیۃ ثم ادعت بعد ذٰلك لاتسمع دعوھٰا ومامنع المورث فی مثلہ منع الوارث بالاولٰی [1]وفی الحاشیۃ الشامیۃ من لاتسمع دعواہ لما نع لاتسمع دعوی وارثہ بعدہ کما فی البزازیۃ وغیرھا انتہی[2]،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
فتاوٰی خیریہ میں ہے:تو اس سے معلوم ہوا کہ ماں اگر زندہ ہوتی پھر بعد میں دعوٰی کرتی تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور جہاں مورث کا دعوٰی مسموع نہ ہوگاتو وہاں وارث کادعوی بطریق اولی نہ سناجائے گا،اور حاشیہ شامی میں ہے:جب مانع کی وجہ سے کسی کا دعوی مسموع نہ ہو تو اس کے بعد اس کے وارث کا دعوٰی وہاں مسموع نہ ہوگا اھ جیساکہ بزازیہ وغیرہ میں ہے انتہی۔واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ ۲۸: ۲۲/ربیع الثانی شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسمیان وجیہ الدین وکریم الدین پسران نظام الدین مالك مشترك بحصہ مساوی ۱۰بسوہ حقیت زمینداری موضع رچہا پر گنہ فرید پور کے تھے ۵/اپریل ۱۸۴۹ء کو وجیہ الدین احد الشریك نے وفات پائی نجم النساء زوجہ صدق النساء مادر ونظام النسا ہمشیرہ حقیقی ذوی الفروض وکریم الدین برادر علاتی عصبہ،جملہ چاروارث شرعی چھوڑے،تاریخ ۱۵/ماہ مذکور کوصدق النساء مادر وجیہ الدین فوت ہوئی اس کی وارث مسماۃ نظام النساء دختر ہوئی اور ۱۱/ستمبر ۱۸۵۳ء کو کریم الدین نے قضا کی،مسماۃ بیگم زوجہ مسماۃ کنیز شیریں دختر ذوی الفروض ومسماۃ نظام النساء ہمشیرہ علاتی عصبہ وارث فوت ہوئے مگر تمام حقیت دیہہ مذکور پر قبضہ بطور خود بعوض دین مہر بیوگان مورثان کا رہا کہ ۱۸۷۳ء میں ۶بسوہ حسب نالش نجم النساء کی تقسیمًا علیحدہ ہوگئے اور ۵بسوہ مسماۃ کنیز شیریں وبیگم نے بدست قربان علی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع