30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یفصح انہ فی غیرہ جارحتی اشتبہ ذٰلك علی بعض الفضلا کالسید الحموی والشیخ صالح بن عبداﷲ الغزی الی ان دفعہ العلامۃ الرملی فی ماسرد نامن جواھرنصوص الفتح ان کل ذٰلك محض تصویر للمسئلۃ وتقریر للاسئلۃ من دون حصرولاقصر وان لاتقدیر بمدۃ ولاتقیدبموت ولا تخصیص بجوار ولابتصرف دون تصرف بعد ان کان ممالایطلق الا للملاك ولا امتناع عن السماع قطعا للاطماع الا للسکوت وترك النزاع مع الوقف والاطلاع علی تصرف واختراع ولئلا یشتبہ مانحن فیہ بمسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ فانہا تعم مااذاوقع التصرف اولاحصل الاطلاع ام لا وھی مسئلۃ تلاحمت فیہا الآراء والاحلام و تشاجرت الظنون والافہام ومن قال فیہا بعدم السماع فانما بنی الامر علی النہی السلطانی ثم اضطربت کلما تہم فی مجاریہا فمن تارك لہا علی الاطلاق ومن مستثن لاشیاء ثم لم یتفقوافی المستثنیات علی کلمۃ واحدۃ ومنھم من عمم باخراج کل مافیہ عذرللمدعی وھو اجمع واصوب |
یہ ذکرنہ کیا کہ غیر میں بھی یہ حکم جاری ہے حتی کہ بعض فضلاء کو اشتباہ ہوگیا جیسے سید حموی اور شیخ صالح بن عبداﷲ الغزی حتی کہ علامہ رملی کو اس کا دفاع کرنا پڑا،اور ہم نے فتح کے نصوص کے جواہر ذکر کئے کہ یہ تمام بیانات مسئلہ کی محض صورتیں ہیں اور سوالات کی تقریر ہے اس میں کوئی حصر،مدت کی تحدید،موت کی قید،پڑوسی کی تخصیص نہیں ہے اور نہ ہی کسی تصرف کا تعین ہے سوائے اس کے کہ یہ تصرف مالکانہ ہو اور مشتری کے تصرفات واختراعات پر اطلاع کے بعد سکوت ہو اور نزاع نہ پایا جائے تو فساد ولالچ کو ختم کرنے کے لئے دعوٰی کی سماعت ممتنع ہوگی اور اس لئے بھی کثیر نقول ذکر کی ہیں تاکہ اس مسئلہ کا پندرہ سال کے بعد عدم سماع والے مسئلہ سے اشتباہ نہ رہے،کیونکہ اس مسئلہ کا دائرہ عام ہے مشتری کا تصرف ہو یانہ ہو پھر اس کی اطلاع اجنبی کو ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو اور اس مسئلہ میں آراء اور دلائل،ظنون اور افہام کا ٹکراؤ ہے جنہوں نے وہاں دعوٰی غیر مسموع کہا ہے انہوں نے سرکاری ممانعت کی بنا پر کہا ہے پھر سرکاری ممانعت کو جاری کرنے میں فقہاء کرام کے کلام میں اختلاف ہے بعض نے علی الاطلاق اس کو جاری مانا ہے اور بعض نے بعض وجوہ سے استثناء کیاہے پھر مستثنیات میں کسی ضابطہ پر اتفاق نہ کیا بعض نے جہاں مدعی کا عذر ہو وہاں سرکاری حکم سے علی العموم استثناء ماناہے یہی موقف جامع اوردرست ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع