30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واما عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ اذا ترکت بلا عذر فذاك فی غیر ھذہ الصورۃ[1] الخ۔ قال الفقیر المجیب غفراﷲ تعالٰی لہ وانمااکثرنا من النقول فی ھذہ المسئلۃ لان منھم من وضعہا فی البیع خاصۃ کالعلائی فی الدرالمختار والزاھدی فی الفتیۃ عــــــہ وابن نجیم فی الاشباہ وآخرین فی آخر و منھم من قید تصرف المشتری بالزرع والبناء کالفاضل الدمشقی فی الدروالعلامۃ الغزی فی التنویر اوالغرس ونحوہ ایضا کالمحقق الرملی فی الفتاوٰی ومنھم صورھا بموت المتصرف ودعوی المدعی علی ورثۃ کما فی فتاوٰی الخلاصۃ ومنھم من قررھافی عکس ذٰلك اعنی موت غیر المتصرف ودعوی ورثتہ علی المتصرف علی مافی الولوالجیۃ ومنھم من ادرج فی التصویر سکوتہ ھذامدۃ تنوف عن کذاوکذاسنۃ کالخیریۃ وغیرہ ومنھم قصرالحکم علی الجارو
|
لیکن پندرہ سال کے بعد دعوٰی کا غیر مسموع ہونا جبکہ بلاعذر دعوٰی ترك کیا ہو،تو اس کا تعلق اس صورت سے نہیں ہے الخ۔مجیب غفراﷲ تعالٰی کہتا ہے ہم نے اس مسئلہ میں کثیر نقول اس لئے پیش کی ہیں کہ بعض نے اس مسئلہ کو بیع میں خاص کیا ہے جیسا کہ علامہ علائی نے درمختار میں اور علامہ زاہدی نے قنیہ اور ابن نجیم نے الاشباہ میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتب میں بیان کیا،اور بعض حضرات نے مشتری کے خاص تعمیر اور زراعت کے تصرفات میں اس کو وضع کیا جیسا کہ فاضل دمشقی نے در میں اور علامہ غزی نے تنویر اور بعض نے پودے لگانے کو بھی شامل کیاہے جیسا کہ محقق رملی نے اپنے فتاوٰی میں اور بعض نے اسکی صورت تصرف کرنیوالے کی موت کے بعد اس کے وارثوں پر مدعی کے دعوٰی کو بنایا ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی میں،اور بعض نے اس کی صورت بالعکس بیان کی یعنی غیر قابض کی موت کے بعد اس کے وارثوں کا قابض متصرف پر دعوٰی،جیسا کہ ولوالجیہ میں اور بعض نے اس میں اجنبی کی خاموشی اتنے یا اتنے سال سے زائد کوصورت میں شامل کیا ہے جیسا کہ علامہ خیر الدین وغیرہ نے،اوربعض نے اس حکم کو صرف پڑوسی تك محدود کیا اور |
|
عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ انہ"قنیۃ"۱۲عبد۔ |
اصل میں اس طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ قنیہ ہے۱۲عبد(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع