30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التصرف مع عدم سبق البیع وبدون مضی خمس عشرۃ سنۃ اواکثر[1]،وفیہا لم یقیدوہ بمدۃ ولابموت کما تری[2]،وفیہا ولیس ایضا مبنیا علی المنع السلطانی کما فی المسئلۃ الاٰتیۃ(قال الفقیر المجیب یعنی مسئلۃ عدم سماع الدعوی خمس عشرۃ سنۃ وھو مثال للمنفی لاللنفی)ثم قال بل ھو حکم اجتہادی نص علیہ الفقہاءکما رأیت فاغتنم تحریرھذہ المسئلۃ فانہ مفردات ھذاالکتاب والحمدﷲ المنعم الوھاب [3]انتہی،وفی ردالمحتار من مسائل شتی مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع وان لم یسبقہ بیع [4]وفیہ من کتاب القضاء امادعوی الاجنبی ولو جارا فلابدفی منعہا من السکوت بعد الاطلاع علی تصرف المشتری ولم یقیدوہ بمدۃ[5]الخ وفیہ من اٰخرکتاب الوقف لیس لہذا مدۃ محدودۃ
|
عرصہ کے ذکر نہ ہونے کے باوجود کسی بھی اجنبی کے دعوٰی کے غیر مسموع ہونے کوکیسے ذکر فرمایا ہے،اس میں مذکور ہے کہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کسی مدت یا موت سے فقہاء کرام نے مقید نہیں کیا،اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ کسی حاکم کے منع پر نہیں ہے جیسا کہ آئندہ مسئلہ میں آرہا ہے،مجیب کہتا ہے کہ پندرہ سال کی مدت کا ذکر عدم سماع دعوٰی میں منفی کی مثال ہے نفی کی نہیں،پھر فرمایا:بلکہ اجتہادی حکم ہے جیسے کہ تم فقہاء کرام کی اس پر تصریح کو دیکھ رہے ہو،ا س مسئلہ کے بیان کوغنیمت سمجھو کیونکہ یہ اس کتاب کے منفرد مسائل میں سے ہے،الحمد ﷲ المنعم الوھاب اھ،اورردالمحتار کے مسائل مختلفہ میں ہے:مشتری کے تصرفات پر مطلقًا اطلاع دعوٰی کے مانع ہے اگرچہ پہلے بیع کی اطلاع نہ پائی ہو اور اسی کتاب میں کتاب القضاء سے ہے کہ مشتری کے تصرفات پر اطلاع کے وقت سکوت کرنا اگرچہ بیع کا علم پہلے نہ ہو اہو اجنبی خواہ پڑوسی کے دعوٰی کے لئے مانع ہے،اسکو انہوں نے کسی مدت سے مقیدنہیں کیا الخ،اور اسی میں کتاب الوقف کے آخر میں ہے کہ اس کے لئے کسی مدت کی حد نہیں ہے، |
[1] العقود الدریۃ کتاب الدعوی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴
[2] العقود الدریۃ کتاب الدعوی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴
[3] العقود الدریۃ کتاب الدعوی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴
[4] ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۳
[5] ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع