30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقت علمہ بھما کما افادہ کلام الرملی السابق وقد علمت ان البیع غیر قید بل مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی،قولہ زرعا و بناء المراد بہ کل تصرف لایطلق الاللمالك فہما من قبل التمثیل،قولہ لاتسمع دعواہ ای دعوی الاجنبی ولوجارا،رملی [1]وفی الخیریۃ وقد کثر افتاء الحنفیۃ عن علماء مصر یتساوی الجارمع الاجنبی فی الحکم المذکور لاشتراکھا فی العلم والعلۃ الموجبۃ بعدم سماع دعوی الجار بعد تصرف المشتری زرعا وبناء علی ماعلیہ الفتوی قطع الاطماع الفاسدۃ سدباب التزویر والتلبیس وھذاالقدر مشترك بین الجارو الاجنبی [2]الخ،۔ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ ثم ان مافی الخلاصۃ والولوالجیۃ یدل علی ان البیع غیر قید بالنسبۃ الی الاجنبی ولو جارا بل مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی [3]الخ، وفیہما بعد نقل فتوی العلامۃ الغزی کما ذکرناھا، فانظر کیف افتی بمنع سماعھا من غیر القریب بمجرد |
چیزوں کا پڑوسی کو علم ہوجائے جیساکہ رملی کے کلام سے معلوم ہوا،آپ کو معلوم ہے کہ بیع کاذکر بطور قید نہیں بلکہ مشتری کے تصرفات پر اطلاع سے خاموشی اس کے دعوٰی سے مانع ہے،اس کا قول"زراعت وتعمیر"تو اس سے مراد ہر وہ تصرف جو صرف مالك ہی کرسکتا ہے ان دونوں کا ذکر بطور تمثیل ہے۔اس کا قول"اس کا دعوٰی غیر مسموع ہوگا"سے مراد یہ ہے ہر اجنبی خواہ پڑوسی ہو،کادعوٰی غیر مسموع ہوگا، بحوالہ رملی،اور خیریہ میں ہے:مصر کے حنفی علماء کے فتاوٰی میں اکثرطور پر پڑوسی کو اجنبی کے مساوی حکم دیا گیا ہے کیونکہ مشتری کے زراعت وتعمیر کے تصرفات پر اطلاع کے بعد دونوں علم اور عدم سماعت دعوٰی کی علت میں مساوی ہیں حالانکہ فتوٰی کی بنیاد فاسد لالچ اور جھوٹ اور دھوکہ کو ختم کرنا اور وہ دونوں میں مشترك ہے اجنبی ہو یا پڑوسی ہو،الخ،عقود الدریہ وتنقیح الفتاوی میں ہے،کہ،پھرخلاصہ اور ولوالجیہ کے بیان میں اس بات پر دلالت ہے کہ بیع کا ذکر بطور قید نہیں کسی بھی اجنبی کے لئے خواہ وہ پڑوسی ہو بلکہ صرف تصرف پر اطلاع ہی دعوٰی سے مانع ہے الخ۔ان دونوں کتب میں علامہ غزی کے فتوٰی کو جسے ہم نے ذکرکیا ہے نقل کرنے کے بعد، فرمایا:دیکھو انہوں نے پہلے بیع کا دعوٰی نہ ہونے اور پندرہ سال یا زائد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع