30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفیہا عن البزازیۃ علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ [1]وفی الولوالجیۃ ثم الخیریۃ والحامدیۃ و غیرہما رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخر رای الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذٰلك لم تسمع بعد ذٰلك دعوی ولدہ فتترك علی یدالمتصرف لان الحال شاہد[2]انتہی،وفی الخیریۃ وبہ افتی شیخ الاسلام شھاب الدین احمد الحلبی المصری [3]، وفی الدر المختار اذاسکت الجار وقت البیع التسلیم و تصرف المشتری فیہ زرعًا وبناءً فحینئذ لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ [4] انتہی،قال خاتمۃ المحققین مولانا السید محمد عابدین رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فی الحاشیۃ قولہ اذا سکت الجار وغیرہ من الاجانب بالاولٰی فتخصیص الجار بالذکر لانہ مظنۃ انہ فی حکم القریب و الزوجۃ، قولہ وقت البیع والتسلیم ای |
اسی میں ہے بزازیہ کے حوالہ سے کہ اسی پر فتوٰی ہے تاکہ فاسد لالچ وغیرہ کا خاتمہ ہوسکے،ولوالجیہ،پھر خیریہ اور حامدیہ وغیرہ میں ہے کہ ایك شخص زمانہ بھر زمین میں تصرف کرتا رہا اور دوسرا شخص اس زمین اور اس میں ان تصرفات کو دیکھتا رہا اور کوئی دعوٰی نہ کیا اور فوت ہوگیا تو اس کے بعد اس کی اولاد کا اس زمین پر دعوٰی مسموع نہ ہوگا تو اس زمین کو قابض کے تصرف میں باقی رکھاجائیگا کیونکہ حال اس کاشاہد ہے،اور خیریہ میں ہے کہ اسی پر شیخ الاسلام شہاب الدین احمد حلبی مصری نے فتوٰی دیا ہے،درمختار میں ہے جب پڑوسی خرید وفروخت اور قبضہ دینے اور خریدار کے تعمیر وزراعت کے تصرفات کو دیکھتے ہوئے خاموش رہے تو مفتی بہ قول کے مطابق اب اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا تاکہ فساد طمع کو ختم کیاجاسکے اھ،حاشیہ میں خاتم المحققین مولاناسیدمحمد عابدین رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:ماتن کا قول جب پڑوسی خاموش رہے،تو دوسرے اجنبی لوگ بالاولٰی،پڑوسی کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ قرب والصاق کی وجہ سے گمان دعوٰی کا مقام ہے،اس کا قول"قبضہ اور بیع کے وقت"یعنی جب ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع