30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنحوالبناء والغرس والزرع یمنعہ من سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لا تسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضی للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرار بانہ ملك البائع،وقال فی جامع الفتاوٰی وذکر فی منیۃ الفقہاء رای غیرہ یبیع عروضا فقبضہا المشتری وھو ساکت وترك منازعۃ،فہو اقرارمنہ بانہ ملك البائع انتہی[1]، وفیہا سئل فی رجل تلقی بیتا عن والدہ وتصرف فیہ کما کان والدہ من غیرمنازع ولامدافع مدۃ تنوف عن خمسین سنۃ والاٰن برزجماعۃ یدعون البیت لجدھم الاعلٰی،فہل تسمع دعوٰھم مع اطلاعھم علی التصرف المذکور واطلاع اٰبائھم وعدم مانع یمنعھم عن الدعوی،اجاب لاتسمع ھذہ الدعوی[2]، |
کی اطلاع کی موجودگی میں،تعمیر،زراعت اور پودوں کی کاشت جیسے تصرفات کرنا اس فریق کے دعوٰی کے مسموع ہونے کے لئے مائع ہے،اور صاحب منظوم نے فرمایا کہ ہمارے اساتذہ ایسے دعوٰی کے نامسموع ہونے پر متفق ہیں اور جھوٹ،لالچ، حیلہ سازی اور تلبیس کے خاتمہ کے لئے مخالف فریق کے سکوت کو بیع پر رضامندی اور اس کی موجودگی اور عدم تنازع کو یہ اقرار تصور کیا جائے گا کہ زمین فروخت کرنیوالے کی ملکیت تھی،اور جامع الفتاوٰی میں فرمایا منیۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ دوسرے کو سامان فروخت کرتے ہوئے دیکھا اور خریدار نے قبضہ کیا تو بھی خاموش رہا اور کوئی اعتراض نہ کیا تو یہ اس کا اقرار متصور ہوگا کہ یہ سامان فروخت کرنیوالے کی ملك ہے اھ،اور اس میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے والد سے مکان حاصل کیا اور اس میں اسی طرح تصرف کرتا رہا جس طرح اس کا والد اس میں بغیر روك ٹوك پچاس سال سے زائد تك تصرف کرتا رہااور اب ایك گروہ نے اپنا دعوٰی کرنا شروع کردیا کہ یہ مکان اس کے جداعلٰی کی ملك ہے تو کیا ان کی تصرفات مذکورہ پر اطلاع اور ان کے باپ کو اطلاع اور دعوٰی سے کوئی مانع نہ ہونے کی باوجود اب ان کا یہ دعوٰی مسموع ہوگا،تو جواب میں فرمایا کہ یہ دعوی مسموع نہ ہوگا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع