30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قابض ومتصرف رہی بلامزاحم اس کے تحصیل تشخیص کرتے اور اپنے صرف خاص میں لاتے اور ان سب امور پر بھی ہندہ واولاد ہندہ کو خوب اطلاع تھی کہ وہ سب اسی شہر میں حاضر موجود تھے نہ کہ غائب ومفقود،بلکہ اسی عرصہ میں موصی لہانے اس نصب باقیماندہ سے بھی چند دیہات بیچ ڈالے کہ اب معدود باقی ہیں اور جب سے مشتریان تصرفات مالکانہ کرتے ہیں ہندہ واولاد ہندہ نے تصرف بیع وانتقال کے وقت بھی کبھی دعوی نہ کیا یہاں تك کہ ۱۳/اکتوبر ۱۸۷۹ء کو ہندہ فوت ہوگئی ورثہ ہندہ اس کے مرے پر بھی دو سال سے زیادہ تك محض ساکت رہے اب باغوائے بعض مردان ۱۹ فروری ۱۸۸۲ کو موصی لہا پر بریں بنا دعوٰی دائر کیا کہ زینب موصیہ اور مدعیوں کی ماں ہندہ دونوں حقیقی بہنیں تھیں ہندہ زینب کی وارث ہوئی اور ہم ہندہ کے ورثاء ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ ہندہ زینب کو اپنی بہن کہتی ہے اور شاید بعض دستاویزیں بتائیں کہ ان میں ہندہ بہن اور ہم ہمشیرزادہ لکھے گئے،آیا یہ دعوٰی ان کا شرعًاقابل سماعت ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
دعوی مدعیان ہر گز قابل سماعت نہیں،نہ کوئی ٹکڑا جائداد کا موصی لہا سے انہیں دلایا جائے نہ اب اس وصیت کے نفاذ ولزوم میں کلام ہوسکے،ہندہ اور ورثائے ہندہ کا اس مدت مدید تك سکوت اور باوصف ان واقعات مختلفہ وگیروداد و کشمکش سالہاسال وتصرفات وبیع وانتقال کے مطلق تعرض نہ کرنا وقرینہ واضحہ ہے کہ یہ دعوٰی ان کا محض مکروتزویروتلبیس وفریب ہے،ہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح و فتاوی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرف مالکانہ کرتے رہے یا وہ بیع خواہ ہبہ خواہ اور طرح سے دوسرے کو تملیك کردے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی عاقل بالغ جو اسی شہر میں موجود اور ان حالات پر مطلع ہوا ور اب تك ارجاع دعوی سے کوئی عذر معقول قابل قبول اسے مانع نہ ہو،دعوٰی کرنے لگے یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوٰی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز نہ سناجائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی جہت اور متصرف کے مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا۔
|
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمر تاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ مزیدۃ علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل |
سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتوٰی میں ہے آپ سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو ا جس کا ایك حویلی میں مکان ہے وہ اس میں تین سال سے زائد مدت سے رہائش پذیر چلا آرہا ہے اور وہ پڑوس والے کے علم اور اطلاع کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع