30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اﷲ تعالٰی بڑے علم والا ہے اور اس جل مجدہ کا علم اتم واحکم ہے۔ت)
مسئلہ۲۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین متین زادھم اﷲ شرفا اس صورت میں کہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان کی میر ارشد علی کے نکاح میں اور مسماۃ مہر النساء ہمشیرہ میرارشد علی کی محمد عیوض علی خان کے نکاح میں تھی ہر دوزوج وزوجات نے بدون ادائے دین مہر کے وفات پائی اب ورثہ ہر دو زوجات دین مہر ان کا ان کے شوہر وں کے متروکہ سے طلب کرتے ہیں ورثہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان فریق مقابل سے کہتے ہیں کہ دین مہر ہماری مورثہ کا تمہارے مورث پر اور تمہاری مورثہ کا ہمارے مورثہ پر ہے اول ان دونوں مہروں کا باہم معاوضہ اور مبادلہ کرلیاجائے بعد معاوضہ اور مبادلہ کے جس فریق کے جس قدر باقی نکلے وہ نقدًا ادا کی جائے اور جو نقدًا ادا نہ ہوسکے تو جائداد باقی دار سے مطالبہ کیا جائے،درجواب اس کے ورثہ مسماۃ مہرالنساء ہمشیرہ میر ارشد علی کہتے ہیں کہ جو جائداد محمد عیوض علی خان پر بعوض دین مہر اپنے موروثہ کی ہم نے قبضہ کرلیا ہے ہم وہی جائداد دیں گے اور مقابلہ اور معاوضہ دین بالدین نہیں کریں گے دریں صورت از روئے شرع شریف حق بجانب کس فریق کے ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جس حالت میں مہر زر نقد ہے اور جائدا اس کی جنس سے نہیں پس ورثہ مہر النساء جائداد پر قابض ہونے سے بے رضائے ورثہ راحت النساء اس کے مالك نہ ہوگئے ہر دو مہر باہم مقاص ہوکر اگر ایك کا مہر زائد ہو مابقی کی نسبت دوسری عورت کے ورثہ کو اختیار ہے خواہ زر نقد دین یا جائداد سے اداکریں،
|
فی بحث الدین من الاشباہ والنظائر وایفاؤہ و استیفاؤہ لایکون الابطریق المقاصۃ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ [1]الخ وفی مبحث الملك منہ وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا[2]قال العلامۃ حموی |
اشباہ ونظائر کے دین کے باب میں ہے کہ اس کا پورالین دین سوائے ادل بدل کے جائز نہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے ہاں الخ،اور اس پر ملك العلماء کی بحث میں ہے وارث کو حق ہے کہ وہ قرضہ ادا کرکے ترکہ کی خلاصی کرائے اگرچہ وہ تمام ترکہ قرضے میں بند ہو۔علامہ حموی نے اس پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع