30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

الجواب:
بیشك صورت مستفسرہ میں زید نے ظلم کیا اور سخت گناہ میں مبتلا ہوا،اس کی جنوبی دیوار سے ختم کوچہ تك جو راستہ گیا ہے وہ صرف ان لوگوں کا حق خاص ہے جو اندر رہتے ہیں زید کا اس میں کچھ دعوٰی نہیں اس کا حق مرور فقط اس کی شرقی دیوار سے اوپر اوپر یعنی شارع عام کی طرف ہے اس کے نیچے یعنی اپنے دروازہ وصحن دروازہ کی حد سے اندر اترکرنیا دروازہ نکالنے کا اسے کوئی استحقاق نہیں۔فتاوٰی امام قاضیخان میں ہے:
|
رجل لہ دار فی سکۃ غیر نافذۃ لہا باب ارادان یفتح لہا بابا اٰخر اسفل من بابھا اختلفوافیہ والصحیح انہ لیس لہ ذٰلک[1]۔ |
کسی شخص کا بند گلی میں مکان ہو اور اس کا دروازہ بھی اس میں ہو اگر وہ دوسرا دروازہ نچلی طرف کھولنا چاہے تو فقہائے کرام نے اس میں اختلاف کیا اور صحیح یہ ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے۔ (ت) |
امام خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار اپنے فتاوٰی خیریہ میں یہ عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں:مثلہ فی کثیر من کتب المذہب[2] (بہت سی کتب میں حکم ایسے ہی ہے۔ت)ا سی میں ہے:
|
ونقل فی التتارخانیۃ عن الفتاوٰی العتابیۃ انہ لیس لہ ذٰلك وعلیہ الفتوی[3]۔ |
اور تاتارخانیہ میں فتاوٰی عتابیہ سے منقول ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع