30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں،اور قاعدہ کلیہ ہے کہ ایسی شہادت محض مہمل ہوتی ہے۔
|
فی الفتاوی الہندیۃ والخیریۃ وغیرہما الشہادۃ ان وافقت الدعوٰی قبلت والالا[1]۔ |
فتاوٰی ہندیہ وخیریہ وغیرہما میں ہے شہادت جب دعوٰی کے موافق ہو قبول ہے ورنہ نہیں۔(ت) |
رہیں دونوں عورتیں ان کا بیان بھی اگر اور وجوہ سے سالم مان لیا جائے تو یوں نامقبول ہے کہ نصاب کامل نہیں تنہا عورتوں کی گواہی ہر گز مثبت نکاح نہیں ہوسکتی،
|
فی الدرالمختار نصابہا لغیرہا من الحقوق کنکاح رجلان اورجل وامرأتان ولم تقبل شہادۃ اربع بلا رجل اھ[2]ملخصًا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے:شہادت کا نصاب حقوق وغیرہ مثلًا نکاح میں دو مرد یا ایك مرداور دو عورتیں،اور مرد کے بغیر چار عورتوں کی شہادت مقبول نہیں اھ ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۲۵: ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹا سا کوچہ غیر نافذہ چند قدم کی مسافت کا جس میں گنتی کے گھرہیں،شارع عام سے مغرب کی طرف جاکر شمال پھر مغرب پھر شمال کو گیا اور سرستہ ہوگیا اس کوچہ کے سرے پر زید کا مکان واقع ہے جس کی شرقی دیوار میں شرق رویہ دروازہ شارع عام کے قریب ہے اور اس کے آگے چند گز کا صحن جس سے اترتے ہی شارع عام کا کنارہ ہے اس مکان کی جنوبی ومغربی دیواریں اس کوچہ غیر نافذہ میں ہیں زید نے دیوار جنوبی میں ایك جدید دروازہ کوچہ سربستہ کی طرف نکالاا ور اس کے آگے خاص اس راستے کی زمین میں ایك سیڑھی دروازہ پر جانے کو بنائی بعض ساکنان کوچہ اس فعل پر ناراض ہیں آیا یہ دروازہ نکالنا اور سیڑھی بنانا اسے جائز تھا یا ناجائز،اور وہ اس فعل سے گنہگار ہوا یا نہیں اور اس نے حق غیر میں ناحق تصرف کرکے ظلم کیا یا نہیں اور اس سیڑھی کا کھودڈالنا اور دروازے کا بند کردینا شرعًا اس پر واجب ہے یانہیں؟ اور ایسے تصرف کے جائز ہونے کے لئے تمام ساکنان کوچہ کی رضامندی چاہئے یا اکثر کی رضاکافی ہے اگرچہ بعض ناراض ہوں۔ بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع