30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ریاست اسلامی کے حکام پر لازم ہے کہ احکام اسلام ہی کا اتباع کریں اﷲتعالٰی توفیق دے،آمین۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲: مسئولہ ابومحمد یوسف حسین متعلم مدرسہ اسلامیہ ساپور ۲۰ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اور بھائی عمرو موجود ہیں،ہندہ نے جائداد کا دعوٰی کیا ہے،عمرویہ ثابت کرتا ہے کہ نکاح نہیں ہوا،ہندہ کی طرف سے ناکح نے شہادت دی ہے کہ میں نے نکاح پڑھا ہے،اور ہندہ کی بہن فاطمہ نے بھی شہادت دی ہے کہ نکاح ہوا،شاہدین انکار کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عمرو کے ملازم ہیں،مگر بہت سے لوگ جن سے زید نے اپنے نکاح کا اقرار کیا ہے شہادت دیتے ہیں کہ ہم سے زید نے نکاح کا اقرار کیا ہے،ایسی صورت میں ہندہ مستحق جائداد ہے یانہیں؟فتح القدیر میں ایك صورت درج ہے جو تحریر کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائی جائے اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شہادت علی اقرار الزوج معتبر ہے:
|
واذاجحد احد الزوجین النکاح فاما اصلہ او شرطہ ففی اصلہ لوجحد الزوج فاقامت بینۃ بہ اوعلی اقرارہ قبلت ولایکون جحودہ طلاقا[1]۔ فتح القدیرص۱۵س۱۳مطبوعہ نولکشورلکھنؤ۔ |
اگر زوجین میں سے کوئی اصل نکاح یا شرط نکاح کا انکار کردے تو اصل کی صورت میں اگر زوج منکر ہے اور زوجہ نے نکاح پر یا شوہر کے اقرار پر گواہ قائم کردئے تو ان کی گواہی قبول کرلی جائے گی اور شوہر کاانکار طلاق نہ ہوگا۔(ت) |
امید کہ جوا ب براہ کرم جلد مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب:
نکاح پڑھانے والے کی گواہی مذکور معتبر نہیں لانھا شہادۃ علی فعل نفسہ وشہادۃ المرء علی فعل نفسہ لاتقبل [2]کما فی خزانۃ وغیرہا (کیونکہ یہ اپنے ہی فعل پر گواہی ہے اورکسی شخص کی گواہی اس کے اپنے فعل سے قبول نہیں کی جاتی جیسا کہ خزانہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور بہن تنہاشاہد ہے بلکہ نصف،البتہ اقرار زوج پر اگر دو شاہد قابل قبول گواہی دیتے ہیں تو کافی ہے کہ وارثان زوج قائم مقام زوج ہیں اور اقرار زوج زوج پر حجت اور اس کے لئے عبارت مذکور فتح القدیر کفایت۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع