30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے:
|
قال العلامۃ المقدسی بعد ذکر مافی التہذیب لا یخفی انہ مخالف لما فی الکتب المعتمدۃ[1]۔ |
علامہ مقدسی نے تہذیب کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ کتب معتمدہ کی تصریحات کے مخالف ہے۔ (ت) |
دوم بعض متاخرین کہ برخلاف مذہب اس طرف گئے وہ اسے قاضی مجتہد کی رائے پر رکھتے ہیں اور اب صدہا سال سے کوئی قاضی مجتہد نہیں،ابوالسعود ازہری پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے:
|
نقل عن الصیر فیۃ جواز التحلیف وھو مقید بما اذاراٰہ القاضی جائزاای بان کان ذارأی اما اذالم یکن لہ رأی فلا[2]۔ |
صیرفیہ سے منقول ہے کہ گواہوں سے حلف لینا جائز ہے،یہ جواز مقید ہے اس صورت کے ساتھ کہ قاضی اس کو جائز سمجھے جبکہ قاضی اہل رائے ہو اور اگر وہ اہل رائے نہ ہو تو حلف مذکور جائز نہ ہوگا۔(ت) |
شامی میں ہے:
|
والمراد بالرأی الاجتہاد[3]۔ |
رائے سے مراد اجتہاد ہے۔(ت) |
سوم اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان بعض کا بر خلاف مذہب اس طرف میل اس ضرورت سے تھا کہ حلف کے سبب حاکم کو ان کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہو،بحر میں تہذیب قلانسی سے ہے:
|
فی زماننا لما تعذرت التزکیۃ بغلبۃ الفسق اختار القضاۃ کما اختارابن ابی لیلی استحلاف الشہود لغلبۃ الظن[4]۔ |
ہمارے زمانے میں چونکہ فسق کے غلبہ کی وجہ سے گواہوں کا تزکیہ متعذر ہوگیا ہے لہذا غلبہ ظن کے حصول کے لئے قاضیوں نے گواہوں سے حلف لینے کو اختیار کیا جیسا کہ ابن ابی لیلٰی کا مختار ہے۔(ت) |
ظاہر ہے کہ یہ ان متاخرین کے زمانے تك تھا جب تك جھوٹے حلف سے مستور لوگ پرہیز کرتے تھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع