30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
قیام المحکوم علیہ بطلب الحکم عنہ ان کان قیامہ علی القاضی العالم العادل لم تسمع دعواہ[1]۔ |
محکوم علیہ اگر اپنے خلاف فیصلہ کی منسوخی کا مطالبہ کرے تو عالم عادل قاضی کے خلاف اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔(ت) |
فواکہ بدریہ پھر غمز العیون قاعدہ اولٰی نوع ثانی میں ہے:
|
قضاء القاضی العدل لایتعقب ویحمل حالہ علی السداد بخلاف غیرہ[2]۔ |
عادل قاضی کے فیصلہ پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے حال کو درستگی پر محمول کیا جائے گا بخلاف غیر عادل قاضی کے۔ (ت) |
ثانیًا: گواہوں پر حلف رکھنا اول: تو خود ہی باطل ہے یہاں تك کہ ہمارے علمائے کرام نے فرمایا اگر سلطان قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے علماء پر فرض ہے کہ اسے نصیحت کریں کہ اے بادشاہ ! وہ حکم نہ دے کہ نہ مانیں تو تیرا غضب ہو اور مانیں تو اﷲ عزوجل کا غضب۔ اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
|
وھذا نظم الدر،امرالسلطان انما ینفذ اذا وافق الشرع والافلا،اشباہ من القاعدۃ الخامسۃ وفوائد شتی،فلو امر قضاتہ بتحلیف الشہود وجب علی العلماء ان ینصحوہ یقولوالہ لاتکلف قضاتك الی امر یلزم منہ سخطك او سخط الخالق تعالٰی[3]۔ |
یہ در کی عبارت ہے کہ امر سلطان اسی وقت نافذ ہوگا جب موافق شرع ہو ورنہ نہیں،اشباہ کے پانچویں قاعدے اور فوائدمتفرقہ میں ہے کہ اگر سلطان اپنے قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے تو علماء پر واجب ہے کہ اس کو نصیحت کریں اور کہیں کہ تو اپنے قاضیوں کو ایسی چیز کا مکلف مت بنا جس سے تیری(بصورت ترک)یا اﷲ تعالٰی کی(بصورت عمل)ناراضگی لازم آئے۔(ت) |
ولہذا علامہ محقق علی مقدسی نے تہذیب کا کلام آئندہ نقل کرکے رد فرمایا۔منحۃ الخالق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع