30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمل کریں،نہ ہرگز حاکمان مرافعہ کو جائز ہوسکتا ہے کہ ایسے کسی حکم کو برقرار رکھیں،مسلمان حاکم یا رئیس یا سلطان کیونکر ان سخت جانگزا وعیدوں کو سہوومحو کرسکتے ہیں،جو واحد قہار عزجلالہ نے قرآن عظیم میں " وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ"[1] (جو اﷲ تعالٰی کے نازل کئے ہوئے پر فیصلہ نہ کرے۔ت)پر فرمائی ہیں،شریعت مطہرہ کے حکم سے اولا مفتی محکمہ ابتدائی کا وہ حکم سرے سے قابل اپیل ہی نہ تھا محکمہ ججی پر لازم تھا اپیل سنتا ہی نہیں کہ وہ حکم ایك عام حاکم عالم عادل نے کیا تھا اور ایسے حکم کا مرافعہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب اس سے یقینا حکم میں خطائے بین واضح ظاہر واقع ہوئی ہو جس میں اصلًا جائے تردد نہیں یہاں تك کہ اگر اس کا حکم خطا ہونا محتمل ومشکوك ہو جب بھی اپیل مسموع نہیں کہ احتمال خطا ظہور خطا نہیں نہ کہ حکم صاف صواب مطابق شرع واقع ہو پھر اپیل کی جائے ایسی اپیل زنہار قابل سماعت نہیں،معین الحکام میں ہے:
|
القاضی نظرہ فی احکام غیرہ مختلف،فاما العالم العدل فلا یعترض لاحکامہ بوجہ قال ابوحامد علی القاضی ان لایتعرض لقضیۃ امضاھا الاول الاعلی وجہ التجویز لہا ان عرض فیہا عارض بوجہ خصومۃ، فاما علی وجہ الکشف لہا والتعقیب فلا وان سألہ الخصم ذٰلک،وھذا فیما جہل حالہ من احکامہ ھل و افق الحق اوخالفہ فہذا الوجہ الذی نفی عنہ الکشف والتعقیب الا ان یظہر لہ خطابین ظاھر لم یختلف فیہ وثبت ذٰلك عندہ فیردہ ویفسخہ عن المحکوم بہ علیہ[2]۔ |
قاضی کا دوسرے قاضی کے فیصلوں پر نظر کرنا مختلف فیہ ہے لیکن عالم عادل قاضی کے فیصلوں میں کسی طرح تعرض نہیں کیا جائیگا۔ابوحامد نے کہا قاضی پر واجب ہے کہ وہ کسی ایسے فیصلہ کا تعرض نہ کرے جسے قاضی اول نافذ کرچکا ہے، ہاں اس فیصلہ کو جائز قرار دینے کے لئے تعرض کرے گا جبکہ بطور خصومت اس فیصلہ کو کوئی عارضہ لاحق ہو،لیکن بطور تفتیش ومواخذہ اس کا تعرض نہیں کرسکتا اگرچہ فریق مخالف اس کا مطالبہ کرے،اور یہ اس صورت میں ہے جب قاضی اول کے فیصلے کا حال مجہول ہو کہ وہ حق کے موافق ہے یا مخالف اور تفتیش ومواخذہ کی نفی کاتعلق بھی اسی صورت کے ساتھ ہے مگر جب قاضی اول کے فیصلہ میں کھلم کھلا خطا ہو جس میں کسی کو اختلاف نہ ہو اور قاضی ثانی کے ہاں وہ پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو وہ قاضی اول کے فیصلہ کو منسوخ اور محکوم بہ سے اسے رد کرسکتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع