30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
___________ چونکہ یہ معاملہ نہایت نازك حلت وحرمت کاہے لہذا حاکم عدالت کو بحال رکھنا فیصلہ حاکم عدالت اول کا اولٰی ہے یا واقعہ طلاق کو حسب پیروکاران عورت ثابت قرار دینا اولٰی ہے شرعًا اولویت ہر دو امر سے کس میں ہے ؟بینواتوجروا۔
الجواب :
اس مقدمہ میں نقول تجویزات ابتدائی واپیل نظر سے گزری جلیل القدر مفتی ذی علم مجوز اول نے اس بنا پر کہ گواہان طلاق عادل نہیں اور حاکم کو ان کی تحری صدق نہ ہوئی بلکہ وہم صدق بھی نہ ہوا اور ان کے کذب کاظن غالب ہوا اور ایسے گواہوں میں تاوقتیکہ تحری صدق نہ ہو ان کی شہادت پر عمل حرام ہے اگر قاضی عمل کرے خود آثم و فاسق ومستحق عزل ہوگا دعوی طلاق باطل فرمادیا،محکمہ اپیل نے وہ حکم اس بنا پر منسوخ کیا کہ شہادتیں حلفیہ تھیں اور روبکار ریاست سے ثا بت ہے کہ محض اس وجہ پر کہ گواہ مستور ہیں ان کی شہادت کو مسترد نہ کیا جائے گاکہ گواہ کا تزکیہ صرف بذریعہ حلف کافی ہے نیز اس کی یہ تائید پیش کی کہ پدر مدعیہ نے قسم ایسی بحوالہ قرآن شریف لرز کر کھائی کہ مدعا علیہ کچھ بول نہ سکا،یہ دونوں تجویزوں کا خلاصہ ہے،دارالافتاء شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت گار ہے حکم اﷲ ورسول کے لئے ہے " اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ؕ"[1] (نہیں ہے حکم مگر اﷲ کے لئے۔ت) کسی شخص کو جب کہ مسلمان ہو،رعیت ہو خواہ حاکم وافسر،والی ملك ہو خواہ سلطان ہفت کشور،حکم خدا ورسول کے حضور اصلًا مجال دم زدن نہیں،الاسلام گردن نہادن نہ کہ گردن کشیدن(اسلام گردن جھکانے کا نام ہے نہ کہ گردن کھینچنے کا۔ت)اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
" وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾ؕ "[2] |
کسی مسلمان مرد یا عورت کو نہیں پہنچتا کہ جب اﷲ ورسول کوئی حکم فرمادیں تو انہیں اپنا ذاتی کوئی اختیار باقی رہے اور جس نے اﷲ ورسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑا۔ |
شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا وآلہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ شریعت ابدیہ غیر منسوخہ ہے قیامت تك جس کا کوئی حکم بدلا نہیں جاسکتا، سلطان بلکہ سلطان سے بھی بڑھ کر خلیفہ روئے زمین کو اصلًا اختیار نہیں کہ روبکار یا دستور العمل اس کے کسی حکم کے خلاف نافذ کریں،نہ ہرگز حکام کو حلال ہے کہ ایسے روبکار وغیرہ پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع