30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لامہ[1] الخ وقد بسط الکلام ویظہر بھذا ان ھذا ھو اصح مایعتمد علیہ لشھادۃ مسائل کثیرۃ منقولۃ عن الجامع الکبیر۔ |
گواہی بیٹے کی ماں یا اس کی سوکن کے حق میں ہو تو ناجائز ہے کیونکہ یہ شاہد کی شہادت اس کی ماں کے لئے ہوئی الخ۔ صاحب بحر نے اس پر مفصل کلام کیا اور اس سے ظاہر ہوا کہ یہی اصح اور شہادت کے بارے میں ان مسائل کثیرہ کے لئے معتمد علیہ ہے جو جامع کبیرسے منقول ہے۔(ت) |
بالجملہ فیصلہ محض بے بنیاد ہے اور طلاق ہر گز ثابت نہ ہوگی ڈگری غلط دی گئی،ہاں اگر واقع میں شمس الدین نے حبیبین کو تین طلاقیں دی ہیں تو عورت اس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا،اﷲ عزوجل جانتا ہے ہر ظاہر وپوشیدہ کو۔اﷲ سے ڈرے اور حق نہ چھپائے،وﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ:۲۱: ازریاست رامپور کوچہ لنگر خانہ مرسلہ سراج الدین صاحب آہنگر ۱۰/رجب مرجب۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اہل اسلام بیچ اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے جو بذات خود اپنے شوہر سے ناراض نہیں ہے اس کا باپ اس کے شوہر سے ناراض ہے اور اس کاباپ چاہتا ہے کہ شوہر اول سے چھڑاکر بجائے دیگر مالدار اس کا عقد کرادے۔عورت اپنے باپ کے پاس اور اس کے قبضہ میں ہے اس کے باپ نے اس عورت کی طرف سے وکالتًا دعوی باطلہ اثبات طلاق کا عدالت میں دائر کردیا،اس مقدمہ میں بذات خود عورت کا بیان یا اظہار نہیں ہواہے،شوہر کو دینے طلاق سے قطعا انکار ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو ہر گز ہر گز طلاق نہیں دی ہے،عورت کی طرف سے جو گواہان مسموع ہوئے ہیں وہ سب غیر ثقہ اور رشتہ دار اس کے باپ کے ہیں ان کی شہادت مصنوعی اورتعلیمی معلوم ہوتی ہے جس کے بابت عدالت نے جس کے روبرو ان کے اظہارات ہوئے ہیں تحریر کیا ہے کہ ان کے بیان میں وہم صدق بھی نہیں بلکہ گمان غالب کذب ہے،شوہر کے طرف سے جو گواہان بطلان دعوٰی طلاق میں پیش ہوئے ہیں وہ آدمی نیك ونمازی اور حاجی اور معززین اپنی قوم کے چودھری ہیں انہوں نے جو بیانات گفتگوئے صلح باہمی عورت اور اس کے پدر کی زبان کا بہت عرصہ بعد طلاق مبینہ کے لکھ لیا ہے اس سے وقوعہ طلاق غلط اور بے وجود ثابت ہوتا ہے اس لحاظ سے حاکم عدالت نے وقوعہ طلاق کو غیر ثابت قرار دیا ہے اب زوجہ کی طرف سے بناراضی اس حکم کے مرافعہ کیا گیا ہے___________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع