30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیصلہ کیا۔
(۱)اس نے بنائے طلاق بیان زن پرر کھی شمس الدین نے اپنی زوجہ حبیبن پر انجمن میں درخواست دی تھی کہ اس کے افعال ایسے ہیں میراانتظام کردیا جائے،عورت نے جواب میں طلاق دینا بیان کیا،مجوزوں نے فیصلہ میں لکھا مدعا علیہا کے بیان سے ثابت ہے کہ مدعی نے اپنی بی بی مدعا علیہا کے سامنے اور اخترعلی آبدار و پیر محمد گواہان مدعا علیہا کے روبرو طلاق مختلف اوقات میں تین دفعہ دے دی ہے انجمن نے جسے مدعا علیہا کہا وہ شرع میں مدعیہ ہے کہ طلاق دئے جانے کا دعوی کرتی ہے آج تك کسی نے مدعی کے بیان کو اس کے لئے سند مانا ہے،خانگی مثل مشہورہے:باطل است آنچہ مدعی گوید(باطل ہے وہ جو مدعی کہتا ہے۔ت)یہ بالکل شرع مطہر کے خلاف ہے،رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لویعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم[1]۔ |
اگر لوگوں کو ان کے دعوٰی کے مطابق دیا جائے تو البتہ کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعوٰی کردیں گے۔(ت) |
(۲)اس بنائے باطل پر فیصلہ لکھا حکم شریعت ہے کہ جب طلاق کے متعلق ایك ذرابھی ثبوت پہنچ جائے تو پھر کسی صورت میں بھی شریعت زن وشوہر کو باہم زندگی بسرکرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ محض غلط ہے شریعت نے ایك سے دو طلاق رجعی تك بلا تکلف زن و شوہر کو زندگی بسرکرنے کی اجازت دی ہے۔ اﷲ عزوجل قرآن مجید میں فرماتاہے:
|
" اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ" [2]۔ |
طلاق دو مرتبہ ہے پھر اچھے طریقے سے روك لینا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے(ت) |
بلکہ تین طلاق میں بھی یہ کہنا غلط ہے کہ اس کی اجازت کسی صورت میں نہیں،صورت حلالہ میں ضروراجازت ہے،
قرآن عظیم میں ہے:
|
" فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ"[3]۔ |
پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو اب وہ عورت اس(خاوند سابق)کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ کسی اورسے نکاح نہ کر لے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع