30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی القنیۃدرقنیہ قولے آوردہ است کہ مدتش پنج روز ست وصواب آنست کہ مدار بر تاخیر از وقت حاجت ست کم باش بابیش کما بینہ فی غمز العیون۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اشباہ میں ہے کہ شاہد حسبہ(لوجہ اﷲ گواہی دینے والا)اور بلاعذر گواہی میں تاخیر کرے تو فاسق ہوجانے کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائیگی جیساکہ قنیہ میں ہے،ور قنیہ میں یہ قول مذکور ہے کہ اس تاخیر کی مدت پانچ دن ہے۔ صحیح یہ ہے کہ حکم مذکور کا مدار بوقت ضرورت گواہی میں تاخیر پر ہے چاہے مدت کم ہو یا زیادہ،جیساکہ غمز العیون میں بیان کیا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ۱۸: ازریاست رامپور کٹے باز خاں مسئولہ غلام حبیب خاں ۸محرم ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر ایك باغ میں نصف نصف کے شریك تھے،زید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد سات سوروپے میں بیع کیا اور واسطے اتلاف حق شفعہ بکر بیعنامہ میں بجائے سات سو روپے کےدوہزار لکھا لے گئے سات سو روپے نقد روبروئے رجسٹرار بائع کو دئے گئے اور نسبت تیرہ سو روپے قیمت غیر واقعی کے یہ تحریر کیا گیا کہ میں نے مشتری کو معاف کئے جس کا ثبوت بابت سات سوروپے قیمت واقعی کے بیانات گواہان بکر سے بھی ظاہرہے۔پس ایسی صورت میں شرعًا کیا ہونا چاہئے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اس میں تین شہادتیں ہیں اگر ان کے بیان شرائط کو جامع بھی ہوں تو ان میں دو باقرار خود داڑھی خشخاش کراتے ہیں اور یہ فسق ہے اور فاسق کی شہادت مقبول نہیں،
|
قال تعالٰی " ذَوَا عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"[1] وقال تعالٰی " مِمَّنۡ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآء"[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تم میں سے دو عادل گواہ۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:ان میں سے جنہیں گواہوں میں سے تم پسند کرتے ہو،اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے(ت) |
مسئلہ ۱۸تا۱۹: ازرام پور محلہ گنج مرسلہ محمد یونس صاحب ۹/ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ شرع متین میں کہ زید کی اور ہندہ کی آپس میں نااتفاقی ہوئی اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع